تصویر میں نظر آنے والی خاتون کا نام امونونا ہے(دوسرا نام عاصمیہ ہے)۔

امونونا کا تعلق سری لنکا سے تھا۔ بیس سال کی عمر میں سال 1975 کو سری لنکا سے عرب امارات ملازمت کے لئے گئی۔
امارات میں دوران ملازمت امونونا کا ایک پاکستانی شخص سے دوستی ہوئی اور دوستی شادی میں بدل گئی۔
شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کراچی پاکستان منتقل ہوگئی،دو تین سال تک خط و کتابت ہوئی،اسکے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔اپنی تصویر بھی بذریعہ ڈاک والدین کو بھیجی تھی۔
امونونا کی اس وقت ایک بیٹی تھی بیٹی کا نام ثانیہ تھا اور ثانیہ کے ماتھے کے قریب ایک بڑا سیاہ تل تھا۔
امونونا /عاصمیہ کے والد کا نام محمد صمیم ، والدہ کا نام زینت امہ،بہن بھائیوں کے نام بالترتیب منیسہ ،عزیز،رفائےدین ،جاسمین ،زلفیہ اور امتیاز ہیں۔
انکی رہائش کراچی نمبر 2 میں تھی۔بھائی کے بقول انکا بہنوئی شاید بلوچ تھا/لیکن کنفرم نہیں۔
ماں باپ بیس سال تک اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھوں میں لئے منتظر تھے اور رو رو کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔
بہن بھائی آج تک اپنی بہن سے ملنے کے لئے ترس رہے ہیں۔
سری لنکا میں ایک پاکستانی بھائی جو بزنس کے لئے گئے ہیں کے ساتھ امونونا کے بھائی کی ملاقات ہوئی انہوں نے یہ ساری داستان سنائی اور تمام پاکستانی بھائیوں سے اپیل کی ہے کہ انکی بہن کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔
کراچی کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ عام کریں۔
امونونا/عاصمیہ کے بچوں تک یا کسی بھی جاننے والے تک یہ پوسٹ پہنچ جائے تو نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
No comments:
Post a Comment