یا اللہ کرم : وہ قا۔تل ماں بیٹا جنہیں مجرم کہتے ہوئے دل دکھتا ہے ۔۔۔ ان پر جو گزری آپ کا دل بھی موم ہو جائے گا ۔۔۔۔چند سال پہلے کا واقعہ ہے تھانہ پھولنگر کی حدود میں ایک درزی رہتا تھا اسکا کام بہت اچھا تھا گاہک خواتین کی لائن لگی رہتی ، اس درزی کی شادی کو 21 سال ہوچکے تھے 3 جوان بیٹیاں اور ایک سب سے چھوٹا بیٹا تھا
جو نویں جماعت کا طالبعلم تھا ۔ اس درزی نے کچھ عرصے سے غیر خواتین کو اپنے گھر میں لانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا ، وہ بیوی کو سختی سے کہتا میرے کمرے میں نہ خود آنا ،نہ بچوں کو آنے دینا ، ساری رات وہ اپنے کمرے میں عورت کے ساتھ گزارتا اور صبح منہ اندھیرے وہ عورت چلی جاتی ۔۔۔ بیوی کچھ دن تماشا دیکھتی رہی پھر اس نے شوہر کو سمجھانا شروع کیا کہ غلط کام سے باز آجاؤ اگر مجبور ہو تو گھر میں یہ تماشا نہ کیا کرو جوان بچے ہیں وہ کیا اثر لیں گے ، مگر درزی پر کوئی اثر نہ ہوا ، وقوعہ کے روز رات گیارہ بجے کا وقت تھا درزی ایک عورت کو گھر لے آیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ، رات 2 بجے کے قریب سب سے بڑی بیٹی کسی کام سے اٹھی تو اس نے دیکھا اسکے والد
کے کمرے کی لائٹ جل رہی ہے اسے عورت کا معلوم نہ تھا اس نے دروازہ کھولا تو اسکا والد اور وہ عورت بے لباس موجود تھے وہ روتی ہوئی واپس اس کمرے میں آئی جہاں ماں اور باقی بہنیں بھائی سو رہے تھے اس نے ماں کو سارا ماجرا بتایا ، ماں شرمساری اور غصے کی کیفیت میں اپنے شوہر کے کمرے میں گئی اور شور مچانا شروع کردیا ، وہ عورت اپنے کپڑے سمیٹ کر اسی وقت گھر سے نکل گئی جب کہ شوہر نے بیوی کو پیٹنا شروع کردیا اور پھر کمرے سے نکال دیا ، بیوی واپس بچوں کے پاس آئی اور صبح کی اذان تک ماں اور بیٹیاں روتی رہیں ، صبح ماں بیٹیوں نے وضو کرکے نماز پڑھی بیٹا بھی مسجد میں باجماعت نماز پڑھ کر آیا ۔ درزی جاگا اور نیچے آیا تو بیوی شوہر کے پیروں میں پڑ گئی کہ غلط کام چھوڑو اپنے بچوں کی طرف دیکھو اور سدھر جاؤ لیکن درزی نے کہا میں نے اب تمہیں طلاق دینی ہے چپ کرکے بچوں کو ساتھ لو اور میکے نکل جاؤ ، اب تمہارا اس گھر میں کوئی کام نہیں ۔۔۔۔ بیوی نے جواب میں کچھ کہا تو درزی شوہر اسے مارنے لگا ، شور سن کر تینوں بییٹیاں اور 15 سالہ بیٹا بھی ماں کو بچانے آئے اس دوران لڑکے نے ایک وکٹ اٹھائی اور باپ کے سر پر دے ماری ، اسکے بعد ماں نے وکٹ اس سے چھین لی اور خود اپنے شوہر کے سر پر وار کیے ، شوہر گر گیا تو بیٹیوں نے بھی باپ پر وار کیے ۔۔۔ اور وہ خو۔ن میں لت پت دنیا سے چل بسا ۔۔۔۔۔ واردات کی اطلاع پر پولیس آئی اور پوچھ گچھ کی تو ماں نے اقرار کیا کہ اس نے ،اپنی بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ ملکر یہ واردات کی ہے ، ہم سب نے اسے ملکر مارا ہے ۔۔۔۔ پولیس اس خاتون کو بیٹیوں اور بیٹے سمیت تھانے لے گئی ، ایک شخص کا ق۔ت۔ل اور 5 قا۔تل دیکھ کر پولیس والے بھی پریشان ہو گئے جب خاتون سے پوچھا گیا تو اس نے مذکورہ بالا تمام حالات بتا کر کہا کہ اگر ہم آزاد ہو جائیں گے تو اچھی بات ہے ورنہ جیل ہو یا پھا۔نسی میں اپنے بچوں کو خود سے جدا نہ ہونے دونگی ۔بعد میں ماں اور بیٹے کو چالان کردیا گیا تھا اور بیٹیوں کو اس مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا ۔۔ جب 15 سالہ لڑکے سے پوچھا گیا کہ اسے اپنے باپ کر ق۔ت۔ل کرنے پر کوئی دکھ ہے تو اس نے کہا مجھے کوئی دکھ نہیں ، کئی سالوں سے باپ اسکی بہنوںا ور ماں کے ساتھ ظلم کررہا تھا ۔۔۔ اس لڑکے سے مسلسل رونے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا میں پکڑے جانے کی وجہ سے نہیں رو رہا مجھے دکھ ہے چند دن بعد میرے سالانہ پیپر شروع ہو رہے ہیں ، اب میں پیپر نہیں دے سکوں گا ۔۔۔۔۔۔۔
جو نویں جماعت کا طالبعلم تھا ۔ اس درزی نے کچھ عرصے سے غیر خواتین کو اپنے گھر میں لانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا ، وہ بیوی کو سختی سے کہتا میرے کمرے میں نہ خود آنا ،نہ بچوں کو آنے دینا ، ساری رات وہ اپنے کمرے میں عورت کے ساتھ گزارتا اور صبح منہ اندھیرے وہ عورت چلی جاتی ۔۔۔ بیوی کچھ دن تماشا دیکھتی رہی پھر اس نے شوہر کو سمجھانا شروع کیا کہ غلط کام سے باز آجاؤ اگر مجبور ہو تو گھر میں یہ تماشا نہ کیا کرو جوان بچے ہیں وہ کیا اثر لیں گے ، مگر درزی پر کوئی اثر نہ ہوا ، وقوعہ کے روز رات گیارہ بجے کا وقت تھا درزی ایک عورت کو گھر لے آیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ، رات 2 بجے کے قریب سب سے بڑی بیٹی کسی کام سے اٹھی تو اس نے دیکھا اسکے والد
کے کمرے کی لائٹ جل رہی ہے اسے عورت کا معلوم نہ تھا اس نے دروازہ کھولا تو اسکا والد اور وہ عورت بے لباس موجود تھے وہ روتی ہوئی واپس اس کمرے میں آئی جہاں ماں اور باقی بہنیں بھائی سو رہے تھے اس نے ماں کو سارا ماجرا بتایا ، ماں شرمساری اور غصے کی کیفیت میں اپنے شوہر کے کمرے میں گئی اور شور مچانا شروع کردیا ، وہ عورت اپنے کپڑے سمیٹ کر اسی وقت گھر سے نکل گئی جب کہ شوہر نے بیوی کو پیٹنا شروع کردیا اور پھر کمرے سے نکال دیا ، بیوی واپس بچوں کے پاس آئی اور صبح کی اذان تک ماں اور بیٹیاں روتی رہیں ، صبح ماں بیٹیوں نے وضو کرکے نماز پڑھی بیٹا بھی مسجد میں باجماعت نماز پڑھ کر آیا ۔ درزی جاگا اور نیچے آیا تو بیوی شوہر کے پیروں میں پڑ گئی کہ غلط کام چھوڑو اپنے بچوں کی طرف دیکھو اور سدھر جاؤ لیکن درزی نے کہا میں نے اب تمہیں طلاق دینی ہے چپ کرکے بچوں کو ساتھ لو اور میکے نکل جاؤ ، اب تمہارا اس گھر میں کوئی کام نہیں ۔۔۔۔ بیوی نے جواب میں کچھ کہا تو درزی شوہر اسے مارنے لگا ، شور سن کر تینوں بییٹیاں اور 15 سالہ بیٹا بھی ماں کو بچانے آئے اس دوران لڑکے نے ایک وکٹ اٹھائی اور باپ کے سر پر دے ماری ، اسکے بعد ماں نے وکٹ اس سے چھین لی اور خود اپنے شوہر کے سر پر وار کیے ، شوہر گر گیا تو بیٹیوں نے بھی باپ پر وار کیے ۔۔۔ اور وہ خو۔ن میں لت پت دنیا سے چل بسا ۔۔۔۔۔ واردات کی اطلاع پر پولیس آئی اور پوچھ گچھ کی تو ماں نے اقرار کیا کہ اس نے ،اپنی بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ ملکر یہ واردات کی ہے ، ہم سب نے اسے ملکر مارا ہے ۔۔۔۔ پولیس اس خاتون کو بیٹیوں اور بیٹے سمیت تھانے لے گئی ، ایک شخص کا ق۔ت۔ل اور 5 قا۔تل دیکھ کر پولیس والے بھی پریشان ہو گئے جب خاتون سے پوچھا گیا تو اس نے مذکورہ بالا تمام حالات بتا کر کہا کہ اگر ہم آزاد ہو جائیں گے تو اچھی بات ہے ورنہ جیل ہو یا پھا۔نسی میں اپنے بچوں کو خود سے جدا نہ ہونے دونگی ۔بعد میں ماں اور بیٹے کو چالان کردیا گیا تھا اور بیٹیوں کو اس مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا ۔۔ جب 15 سالہ لڑکے سے پوچھا گیا کہ اسے اپنے باپ کر ق۔ت۔ل کرنے پر کوئی دکھ ہے تو اس نے کہا مجھے کوئی دکھ نہیں ، کئی سالوں سے باپ اسکی بہنوںا ور ماں کے ساتھ ظلم کررہا تھا ۔۔۔ اس لڑکے سے مسلسل رونے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا میں پکڑے جانے کی وجہ سے نہیں رو رہا مجھے دکھ ہے چند دن بعد میرے سالانہ پیپر شروع ہو رہے ہیں ، اب میں پیپر نہیں دے سکوں گا ۔۔۔۔۔۔۔حالات اور واقعات بعض اوقات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ انجام کی پرواہ کیے بغیر کچھ نہ کچھ کر گزرتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ مجرم ماں کے پیٹ سے جنم نہیں لیتے یہ معاشرہ ہوتا ہے جو اچھے بھلے انسان کو مجرم بنا دیتا ہے ۔۔۔۔ #FBLIFESTYLE
No comments:
Post a Comment