HD

Tuesday, 17 February 2026

 با جی میرے اپنوں نے مجھے مار دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ کئی سال قبل کراچی میں ہوئی لرزہ خیز واردات کا احوال 

باجی میرے اپنوں نے مجھے مار دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ کئی سال قبل کراچی میں ہوئی لرزہ خیز واردات کا احوال ۔۔۔جب 20 سال سعودی عرب میں مزدوری کرنے والے پاکستانی شہری کو اس کی غیر ملکی بیوی نے ق۔ت۔ل کر ڈالا اور لا۔ش کو ایسے چھپایا کہ قیامت تک پتہ نہ چلتا ۔۔۔مگر مقتول کی بہن کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ جرم سے پردہ اٹھ گی
Published from Blogger Prime Android App
ا ؟؟؟ احمد حسین نے 20 سال تک سعودی عرب میں مزدوری اور ملازمت کی کروڑوں روپیہ کمایا اس دوران وہ وہیں ایک برما کی خاتون نصرت سے شادی کرچکا تھا ۔ احمد حسین نصرت کو عزت احترام سے پاکستان لایا ، اسے خوبصورت گھر بنا کردیا دنیا کی ہر آسائش دی انکا ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں ہوئیں ۔۔۔ احمد حسین کے بہن بھائی بھی علیحدہ گھروں میں کراچی کے اسی محلے میں رہتے تھے ۔ پھر یہ ہوا کہ نصرت نامی ایک خاتون نے اللہ دتہ نامی ایک شخص سے تعلقات بنا لیے اور اپنے شوہر کو ق۔ت۔ل کرکے اسکی دولت اور جائیداد ہڑپ کرنے کے منصوبے بنانے لگی ۔ اللہ دتہ غیر شادی شدہ شخص ادھیڑ عمر شخص تھا ۔ نصرت نے اس پر نہ جانے کیا جادو کیا کہ وہ اسکا غلام بن کررہ گیا اور اسکے اشارے پر سب کچھ کرنے پر تیار تھا Published from Blogger Prime Android App۔ پھر ایک روز نصرت نے احمد حسین کو نیند والی گو۔لیاں دودھ میں ملا کردے دیں اور اپنے آشنا کو بلا لیا ، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ نصرت کے بچے بھی گھر میں موجود تھے ۔ نصرت اور اللہ دتہ نے ملکر بے ہوش احمد حسین کو اس کے لائسنسی پستو۔ل سے گو۔لی ماری اور کچن کے اندر کم از کم 8 فٹ گہرا ایک گڑھا کھودا ، اس گڑھے میں احمد حسین کے مردہ جسم کو ڈال کر اوپر سے مٹی ڈالی گئی پھر سیمنٹ اور بجری کی ایک موٹی تہہ یعنی لنٹر ڈال دیا گیا اسکے بعد پھر مٹی اور آخر میں ٹائلوں کے ذریعے کچن کا فرش ہموار کردیا گیا ۔۔۔۔۔یہ اتنا پکا بندوبست تھا کہ قیامت تک اس واقعہ کا پتہ نہ چلتا ۔۔۔ لیکن ق۔ت۔ل کے دوسرے روز احمد حسین کی بہنوں اور بھائی نے اپنے بھائی کی غیر موجودگی نوٹ کی اور اسکے بیوی بچوں سے پوچھا تو بیوی نے بتایا کہ تمہارا بھائی دوسری شادی کرنے کا کہہ گیا ہے 1 لاکھ روپے بھی لے گیا ہے اور مجھے کہہ کر گیا ہے کہ کچھ دن لگ جائیں گے میری فکر نہ کرنا جب ٹائم ملے گا خود فون کرونگا ۔۔۔۔ گھر والے کچھ روز انتظار کرتے رہے ۔ 9 دن گزر گئے جب احمد حسین کا کچھ پتہ نہ چلا اور اسکا فون بھی کئی روز سے بند پایا گیا تو بہنوں کو تشویش ہونے لگی وہ بار بار اپنی بھابھی کے پاس آتیں اور اپنے بھائی کا پوچھتیں مگر نصرت جواب دیتی کہ میرا بھی شوہر ہے میرے بچوں کا باپ ہے ، آپ پتہ کروائیں کہ وہ خیریت سے ہو ۔۔۔۔۔ احمد حسین کی بہن کو اب  اٹھتے بیٹھتے  اور سوتے ہوئے خواب آنے لگے ، وہ بھائی کے گھر جاتی تو  اسے لگتا جیسے اس کا بھائی اسے آوازیں دے رہا ہو۔۔۔ ایک بار نیند میں احمد حسین بہن کے خواب میں آیا اور کہا باجی مجھے میرے اپنوں نے مار دیا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ کوئی ثبوت نہ تھا ۔ ایک روز محلے داروں نے احمد حسین کے بہن بھائیوں کو بتایا کہ تمہاری بھابھی نے 2 لوڈر گاڑیاں منگوائی ہیں وہ یہاں سے نکلنے والی ہے ۔۔۔ اسکے بعد احمد حسین کے بہن بھائیوں نے پولیس کو بلا لیا ، پولیس گھر میں آئی تو نصرت زور زور سے رونے لگی ، اور اس موقع پر اس نے احمد حسین کے بھائی کو ایک طرف لے جا کر خود کہہ دیا : بھائی جان : تمہارے بھائی کو میں نے مروا دیا ہےPublished from Blogger Prime Android App ۔۔۔۔۔میں اس سے بہت تنگ تھی ۔۔۔۔ یہ سن کر احمد حسن کے بہن بھائیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ، ایک انوکھی بات یہ نوٹ کی گئی کہ اس رونے دھونے اور چیخ و پکار کے دوران احمد حسین کے 3 جوان بچے ایک طرف چپ کرکے بیٹھے رہے ۔۔ پولیس ملزمہ نصرت کو تھانے لے گئی تو اس نے پولیس کو ایک تھپڑ کی زحمت بھی نہ دی اور ساتھی ملزم  کا نام پتہ بتا دیا ، جہاں لا۔ش دفن کی گئی اس جگہ کی نشاندہی بھی کردی ، پولیس اوربہن بھائیوں  نے مزدور لگا کر مق۔تول کی لا۔ش اسکے اپنے گھر سے برآمد کی تھی ملزمہ سے اس ق۔ت۔ل کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا میں شوہر سے تنگ تھی وہ بطور بیوی مجھے حق نہیں دے رہا تھا اور نئی شادی کرنا چاہتا تھا اس وجہ سے میں نے بھی ایک بندہ رکھ لیا ، اپنے شوہر کو اسکے کیے کی سزا دینے کے لیے میں نے یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔۔۔ خاتون سے جب بچوں کی خاموشی کا پوچھا گیا تو  اس نے کہا بچے گھر میں تھے لیکن ان کا ق۔ت۔ل میں کوئی ہاتھ نہیں ، جبکہ خاتون کی بیٹیوں اور بیٹے نے پولیس کو کہا جو کیا ہماری ماں اور اسکے دوست نے کیا ہمارا اس ق۔ت۔ل سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس کہ بچوں نے آنکھوں کے سامنے باپ بھی مروا ڈالا ، علم ہونے کے باوجود کسی کو بتایا بھی نہیں اور پکڑے جانے پر سارے معاملے سے لاتعلق ہو گئے ملزمہ نے ماں ہونے کی وجہ سے سب کچھ خود پر اور آشنا پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔ 

No comments:

Post a Comment