کل رات بھلوال سرگودھا سے ایک مجبور والد ایس ایم ایس آیا کہ میری بچی کی گمشدگی کی خبر لگا دیں شاید وائرل ہونے کے بعد بچی مل جائے

ہوا یوں کہ سجلات زہرہ بھلوال کی رہائشی تھی جس کی عمر 16 سال تھی بچی کی والدہ ملازمت کرتی تھیں جب وہ جاب پہ گئیں تو پیچھے بچی گھر اکیلی تھی وہ گھر سے نکلی تالا لگایا اور چابی ساتھ والے گھر دے دی ۔
اور پھر چند گھر دور اپنی بیسٹ فرینڈ رابعہ ارشد بھٹی کے گھر چلی گئی جب بچی کے والد گھر آئے تو پڑوسی نے چابی دے دی اور کہا کہ آپ کی بیٹی رابعہ کی طرف گئی ہے ایک گھنٹہ قبل ۔
جب والد رابعہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا دونوں بچیاں غائب ہیں سب نے تلاش شروع کردی لیکن کوئی سراغ نہ ملا ۔
آج ایک مہینہ ہوگیا ہے دونوں دوستوں کے والدین رو رو کر پاگل ہورہے ہیں ۔
جب بچی کے والد سے بات کی تو پتا چلا کہ دونوں بچیاں آنلائن ویڈیو گیمز کھیلتی تھی وہیں اس کا کسی اغواء کار سے رابطہ ہوا
انہوں ٹریپ کیا اور گھر سے کسی طرح باہر بلا لیا جب دونوں بچیاں باہر گئیں تب سے لاپتہ ہیں ۔
کیس میرا پیارا ٹیم کے پاس بھی ہے اور اب یہ کیس آپ لوگوں کے سامنے ہے جتنا ہوسکے آگے پھیلا دیں ۔
کیونکہ اس وقت سب سے زیادہ چھوٹی عمر کے بچے بچیوں کو ٹریپ کیا جارہا ہے نادان ہوتے ہیں چنگل میں پھنس جاتے ہیں ۔
اپنے بچوں پہ نظر رکھ لیں کہیں آپ بھی ان باکس میں آکر نہ کہیں کے حارث بھائی پلیز آواز اٹھا دیں ۔
آج ہی اپنے بچوں کو سمجھائیں اب تک پولیس ، خفیہ اور تمام ڈیپارٹمنٹ بچیوں کی تلاش میں ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا نیچے ایف آئی آر کی کاپی لگا رہا ہوں ۔
اب مختلف شہروں سے سیکڑوں کی تعداد میں بچیاں اور بچے ہیومن ٹریفیکنگ کا شکار ان سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے ہورہی ہیں
😥
No comments:
Post a Comment