HD

Thursday, 26 February 2026

 سعودي عرب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے اپنی ہندو ماں سے ملاقات کی خاطر کیرالا کا طویل سفر طے کیا۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے اپنی ہندو ماں سے ملاقات کی خاطر کیرالا کا طویل سفر طے کیا۔
ایک بیٹا محض اپنی ہندو ماں سے ملاقات کی خواہش میں سعودی عرب سے کیرالا جا پہنچا۔۔۔
Published from Blogger Prime Android App
کئی برس قبل سعودی عرب میں کیرالا سے تعلق رکھنے والی ایک ہندو آنٹی بچوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔ انہی بچوں میں ایک ننھا سا لڑکا بھی شامل تھا، جسے وہ اپنی جان سے بڑھ کر چاہتی تھیں۔ ، 
وہ اس کی پرورش اور نگہداشت ایسے کرتیں جیسے حقیقی ماں کرتی ہے_ محبت، شفقت اور خلوص کے ساتھ۔......

وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ لڑکا جوان ہو گیا اور آنٹی واپس بھارت لوٹ گئیں۔ مگر وہ مامتا، وہ پیار، اس کے دل سے کبھی محو نہ ہو سکا۔
کئی مہینوں تک اس نے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ معلومات جمع کیں، پتہ دریافت کیا، ٹکٹ خریدا اور بالآخر کیرالا پہنچ گیا۔ جب وہ ان کے دروازے پر کھڑا تھا تو اس کا دل تیز تیز  دھڑک رہا تھا۔ ، …
کیا وہ اسے پہچان پائیں گی؟ کیا گزرے دنوں کی محبت انہیں یاد ہوگی؟
مگر جوں ہی آنٹی کی نظر اس پر پڑی، ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔  انہوں نے بانہیں پھیلا کر پکارا،   “بیٹا!”
وہ بچپن کی طرح ان سے لپٹ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ انہوں نے حسبِ سابق اس کے ماتھے کو چوما۔
اس لمحے میں نہ مذہب کی کوئی تفریق تھی، نہ سرحدوں کی کوئی دیوار… بس ایک ماں اور بیٹے کے درمیان سچی محبت کا رشتہ تھا۔

یقیناً، ایسے لوگ آج بھی اس  دنیا میں موجود ہیں۔....

No comments:

Post a Comment