پچھلے پانچ ہزار سالوں سے، افغانستان کے پہاڑوں کے دل میں ایک قیمتی خزانہ چھپا ہے — ایسا نیلا پتھر جو کبھی سونے سے بھی زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔

یہی وہ جگہ ہے، شمالی افغانستان کی سرِ سنگ کی کانیں، جہاں سے دنیا کا مشہور پتھر لاجورد (Lapis Lazuli) نکلتا ہے۔
صدیوں پہلے تاجر اونٹوں کے قافلوں میں اسے صحرا پار کر کے مصر اور میسوپوٹیمیا(عراق ) تک لے جاتے تھے۔ وہاں یہ پتھر فرعونوں کے تاج، زیورات، اور مندروں کی دیواروں کی زینت بنتا تھا۔
جب اسے پیس کر رنگ بنایا گیا، تو یہ الٹرا میرین (Ultramarine) کے نام سے مشہور ہوا — اتنا نایاب اور قیمتی کہ صرف بادشاہوں، دیویوں اور آسمانوں کے رنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ بدخشاں میں لاجورد کی کان کنی تقریباً 5000 قبل مسیح سے ہو رہی ہے۔
مصریوں نے اسے زیورات، تعویذوں اور فرعون توت نخ آمون کے مشہور سنہری نقاب تک میں استعمال کیا۔
پھر جب فنکاروں نے اس نیلے رنگ سے مصوری شروع کی، تو میکل اینجلو اور ورمیر جیسے عظیم مصوروں نے اسے مقدس مناظر اور شاہی تصویروں کے لیے استعمال کیا۔
آج اگرچہ کیمیائی رنگوں نے اس کی جگہ لے لی ہے، مگر افغانستان آج بھی قدرتی لاجورد کا سب سے اہم اور تاریخی گھر ہے۔
For over 5,000 years, Afghan miners have unearthed a stone so prized it was worth more than gold.
Deep in the mountains of northern Afghanistan lies one of the oldest mines in the world the Sar-e-Sang mines, source of the legendary lapis lazuli.
For millennia, traders carried this vivid blue stone across deserts to Egypt and Mesopotamia, where it adorned pharaohs and temples.
Ground into powder, it became ultramarine, the rarest pigment of the ancient world used to paint the robes of kings and the heavens themselves.
Lapis lazuli was mined in Badakhshan, Afghanistan, as early as 5000 BCE.
Egyptians used it in jewelry, scarabs, and funerary masks — including Tutankhamun’s.
The pigment ultramarine, made by grinding lapis, was once worth more than gold and used by artists like Michelangelo and Vermeer for sacred and royal imagery.
Modern chemical pigments replaced it, but Afghanistan remains the world’s main natural source.
No comments:
Post a Comment