قازقستان میں ایک ایسی پراسرار بیماری پائی جاتی ہے۔
جس نے دو گائوں ہجرت کرنے پہ مجبور کر دیے۔
اک نامعلوم طاقت جو تمام لوگوں کو کنٹرول کر لیتی ہے۔

قازقستان کے شمال میں اک طویل میدانی علاقہ ہے۔
جہاں درخت بہت کم ہیں۔
مگر زمین زیادہ تر خشک گھاس سے بھری ہوئی ہے۔
سردیوں میں دو گائوں برف کی موٹی تہہ میں دب جاتے ہیں۔
پہلا گائوں کلاچی جہاں 600 کے قریب لوگ رہتے تھے۔
ان میں اکثر روسی اور جرمن خاندان آباد ہیں۔
جب کہ دوسرا گائوں کرانسو ہے جو “گھوسٹ ٹائون” بھی کہلاتا ہے۔
جہاں کبھی 6ہزار کی آبادی گھٹ کر صرف130 بچ گی ہے۔
ان دونوں میں ایسا کیا ہوا کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے؟
یہ سچی کہانی سال 2013ء میں شروع ہوتی ہے۔
جب گائوں والے اچانک دن کے وقت سو گے۔
ایسے سوئے جیسے نشہ آور دوائیوں کا استعمال کیا ہو۔
اور کئی کئی گھنٹوں تک سوئے رہے۔
دو دن، پانچ دن اور کچھ تو پورے ہفتے نیند کے خمار میں رہے۔
اب اس میں اک شاکنگ پہلو یہ تھا کہ یہ نیند عام نہیں تھی۔
بلکہ اچانک سبھی کو نیند کا دورہ پڑتا تھا۔
★کوئی کھڑے کھڑے سو جاتا تھا۔
★کوئی سائیکل چلاتے ہوئے اچانک بے ہوش ہوکرگرتا ۔
★سکول کے بچے کلاس کے دوران یکدم نیند میں چلے جاتے۔
★کوئی کھانا کھانے کے دوران ہی نیند کی وادی میں کھو جاتا۔
لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ آخر ایسا کیا ہورہا ہے؟
کیا کسی نے ہم پہ جادو کیا ہے یا آسمان سے کوئی عذاب اترا ہے۔
گارڈین نیوز کے مطابق جب بھی انہیں نیند کا دورہ پڑتا تھا۔
اس سے زرا دیر پہلے آسمان پہ پرندے اچانک سے بہت سا شور مچاتے تھے۔
ایک دور دراز سرد علاقے میں رات کو پرندوں کا شور کرنا عجیب ہوتا ہے۔
کیا وہ کوئی وارننگ دے رہے تھے یا کیا تھا؟
مگر اگلے ہی دن بہت سارے لوگ بے ہوش ہوجاتے تھے۔
پھر جاگنے کے بعد الگ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
مثلا:
★کسی کی یاداشت غائب ہوجاتی تھی۔
★کسی کو خوابوں میں بستر پہ سانپ نظر آتے تھے۔
★بہت سارے بچوں کا پَروں والے گھوڑے بھی نظر آتے۔
★کسی کو متلی اور سرکا شدید درد بھی ہوجاتا تھا۔
★ پراسرار جگہوں کے خواب دیکھے جو اجنبی تھیں۔
قازق حکومت نے اپنی میڈیکل ٹیم کے ذریعے سبھی کے ٹیسٹ لیے۔
دماغی سکین سے لے کر خون اور جسموں کا معائنہ کیا گیا۔
مگر سب نارمل اور صحت مند نظر آرہے تھے۔
اب اس پہ طرفہ تماشا کہ بلی اور دیگر جانوروں کو بھی یہ بیماری لگی۔
ابھی تک اس نیند کی آسیب زدہ بیماری کے متعلق درج ذیل تھیوریز ہیں:
1): وہاں کے بزرگوں کے مطابق پرندوں کا شور بتاتا ہے۔
اس جگہ کسی بڑی بلا کا سایہ ہے۔
جو ہم سب کو کنٹرول کر لیتی ہے۔
2): سائنسدان اسے Toxic gases سے لنک بناتے ہیں۔
یا یورینم کی پرانی کانوں سے آنے والی گیس ان لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔
اگر سائنسی تھیوری کو مان لیا جائے مگر ابھی تک ثبوت نا کافی ہیں۔
اگر کسی آسیب کا سایہ مان لیا جائے تو کسی کی جان کیوں نہیں گی؟
کچھ مقامیوں کا یہ بھی کہنا ہے۔
جب پرندے ایک رات پہلے بہت شور کرتے ہیں۔
تو وہ اڑتے ہوئے اپنی ڈاریکشن کو بھی بدلتے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے وہ مزحمت کر رہے ہوں۔
اور وہ "روحوں کے میسجز" لاتے ہیں۔
(ممکن ہے کہ ان روحوں کو کنٹرول کر کے "کہیں اور یوز" کیا جارہا ہو؟)
شاید اسی سبب وہ ہمیں ہوشیار رہنے کی پری وارننگ دے رہے ہوں۔
آج تک Mystery of Sleeping Towns نیند کی وجہ سے مشہور ہے۔
اور اس کی وجوہات پہ سائنسی و غیر سائنسی ثبوت کمزور ہیں۔
ہاں ایک بات یقین ہے کہ یہ بیماری موجود بھی ہے۔
اور ہر سال کچھ ہی کیسسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
کیوں کہ دونوں گائوں خالی کروائے جاچکے ہیں۔
No comments:
Post a Comment