HD

Friday, 29 August 2025

اینڈی: امریکی فوج سے "روشنی کا سفر"  انسانی زندگی کے سفر میں بعض لمحے ایسے

اینڈی: امریکی فوج سے "روشنی کا سفر"  انسانی زندگی کے سفر میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو سب کچھ بدل دیتے ہیں۔ یہ لمحے نہ صرف ایک فرد کی تقدیر کا رخ موڑ دیتے ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ہدایت کا چراغ بن جاتے ہیں۔ برادر اینڈی کی زندگی بھی ایک ایسے ہی سفر کی کہانی ہے، جو مغرب کی دنیا سے شروع ہوئی اور آخرکار مدینہ کی روشنیوں اور مکہ کی صداؤں تک جا پہنچی۔
Published from Blogger Prime Android App
اینڈی امریکہ میں پیدا ہوئے۔ ایک اوسط مگر محنتی گھرانے میں پرورش پائی۔ بچپن میں عیسائیت ان کے ماحول میں موجود ضرور تھی لیکن وہ اس مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہ رکھتے تھے۔ جوانی میں ان کے اندر نظم و ضبط اور خدمتِ وطن کا جذبہ غالب آیا اور انہوں نے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ فوجی زندگی نے ان کے اندر عزم، برداشت اور قربانی کا حوصلہ پیدا کیا۔ وہ مختلف محاذوں پر گئے، سخت ماحول میں ڈیوٹی دی، لیکن اس سب کے باوجود ان کا دل ایک خلاء کا شکار رہا۔ وہ سوالات جو ہر انسان کے باطن میں چھپے ہوتے ہیں: زندگی کا مقصد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ خدا کون ہے؟ اُن سوالات کے جوابات اب تک انہیں نہ مل سکے تھے۔
1996ء میں فوجی ڈیوٹی کے دوران اینڈی کی تعیناتی ترکی میں ہوئی۔ یہیں اُن کی ملاقات ایک ترک خاتون سے ہوئی۔ دونوں میں تعلق بڑھا اور ایک سال بعد یعنی 1997 میں دونوں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ اُس وقت نہ اینڈی مذہب میں دلچسپی رکھتے تھے اور نہ ہی اُن کی اہلیہ اسلام کے تقاضوں کو سنجیدگی سے اختیار کیے ہوئے تھیں۔ زندگی ایک عام مغربی جوڑے کی طرح آگے بڑھتی رہی لیکن 10 برس بعد حالات بدلے۔ اینڈی کی اہلیہ کے دل میں ایمان کی روشنی جاگنے لگی۔ انہوں نے نماز پڑھنا شروع کی، قرآن سے رشتہ جوڑا اور دین کو گہرائی سے سمجھنے لگیں۔ جیسے جیسے وہ اسلام کے قریب آتی گئیں، اُن پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ایک مسلمان عورت کے لیے غیر مسلم مرد سے شادی قائم رکھنا دینی اعتبار سے جائز نہیں۔ یہ احساس اُنہیں بے چین کرنے لگا اور انہوں نے اپنے شوہر سے بار بار کہا کہ اسلام قبول کر لیں۔ اینڈی کے لیے یہ مرحلہ نہایت مشکل تھا۔ وہ نہ اسلام کو جانتے تھے اور نہ ہی اپنی پرانی مذہبی روایت میں مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ میں کوشش کرکے الٹا اپنی بیوی کو عیسائیت کی طرف لے آؤں۔ اسی دوران فوجی ذمہ داری کے باعث ان کا قطر ٹرانسفر ہوگیا۔ روانگی سے پہلے میاں بیوی کے درمیان ایک فیصلہ کن معاہدہ ہوا: اینڈی قرآن پڑھیں گے اور اُن کی اہلیہ بائبل۔ دونوں نے اس وعدے پر عمل کیا۔
یہیں سے تقدیر کا دروازہ کھلا۔ اینڈی نے قرآن کھولا تو اُس کی زبان، اُس کا اسلوب اور اُس کا پیغام اُن کے دل پر بجلی کی طرح گرا۔ یہ کوئی عام کتاب نہ تھی۔ ہر آیت حقیقت کا آئینہ دکھاتی، ہر لفظ انسان کی فطرت سے ہم آہنگ معلوم ہوتا۔ اُنہیں ایسا لگا جیسے یہ کتاب براہِ راست اُن سے مخاطب ہے۔ دوسری طرف جب اُن کی اہلیہ نے بائبل پڑھی تو انہیں تضادات، اختلافات اور ابہام کے سوا کچھ نہ ملا۔ اینڈی نے سوچا کہ شاید اُنہوں نے بائبل کو صحیح طرح نہیں پڑھا۔ لہٰذا چھ ماہ تک دوبارہ بائبل کا مطالعہ کرتے رہے۔ لیکن قرآن کی روشنی دل میں اتر چکی تھی۔ اب بائبل انہیں کمزور دلائل اور متضاد بیانیوں کا مجموعہ محسوس ہوئی۔ پھر انہوں نے دوبارہ قرآن پڑھا اور اس بار دل پوری طرح مطمئن ہوگیا کہ یہ خدائے واحد 
ولم یزل کا کلام ہے۔
اس کے باوجود ایک فوجی کے مزاج کے مطابق وہ جلدی فیصلہ کرنے والے نہ تھے۔ انہوں نے تقریباً دو برس تک اپنے دل کے اندر کی جنگ لڑی۔ ایک طرف بچپن کی روایتی وابستگی اور دوسری طرف وہ کلام جو دل کو سکون بخشتا تھا۔ بالآخر وہ لمحہ آیا جب انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ سچائی کو مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔
2009 کی ایک شام رمضان المبارک میں ریپڈ سٹی، ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک افطار اجتماع میں اینڈی نے اللہ کے سامنے سر جھکا دیا۔ حاضرین کے سامنے انہوں نے بلند آواز میں کہا:
"أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً رسول الله"
(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)
یہ لمحہ اُن کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ بن گیا۔ ایک امریکی فوجی جس نے دنیا کے کئی محاذ دیکھے تھے، آج روح کی جنگ جیت چکا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، دل سکون سے بھر گیا اور زندگی کا مقصد واضح ہوگیا۔ دل سے ظلمت کی چادر ہٹ اور روح کا غبار چھٹ گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد برادر اینڈی نے خود کو دین کی تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ وہ قرآن کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں، احادیث اور سنتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک بار عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور دوبارہ خانہ کعبہ اور روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کے مشتاق ہیں آج برادر اینڈی کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ہدایت کا دروازہ ہر اس شخص پر کھلتا ہے جو خلوصِ نیت سے تلاش کرے۔ وہ ایک جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ اسلام صرف مشرق کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔ اُن کا سفر ہر اُس شخص کے لیے دعوتِ فکر ہے جو دل کی گہرائی سے سچائی کا متلاشی ہو۔

No comments:

Post a Comment