وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں
اسی لئے تو وہ رُخ پہ نقاب رکھتے ہیں

وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دِلرُبا خُوشبو
وہ اپنے ہونٹوں پہ کھِلتے گُلاب رکھتے ہیں
ہر ایک ورق میں تم ہی تم ہو جانِ محبوب
ہم اپنے دل کی کچھ ایسی کتاب رکھتے ہیں
جہانِ عشق میں سوہنی کہیں دکھائی دے
ہم اپنی آنکھ میں کتنے چناب رکھتے ہیں
قافِلے مَنزِلِ مَہتاب کی جانِب ہیں رَواں
مِری راہوں میں تِری زُلف کے بَل آتے ہیں
مَیں وہ آوارۂ تَقدِیر ہُوں یَزداں کی قَسَم
لَوگ دِیوانہ سَمَجھ کَر مُجھے سَمجھاتے ہیں
یہ تو اب جا کے بنے ہیں سخت جاں ،وگرنہ ہم
دل کسی کا دکھا کر کئ دنوں، پشیمان رہتے تھے.
زندگی بھر کی شناسائی چلی جائے گی
گھر بسا لوں گا تو تنہائی چلی جائے گی
سلیم کوثر
صدائے دشت ہوں اور راستے میں کوئی نہیں
تمھارے بعد مرے رابطے میں کوئی نہیں
شائستہ مفتی آپ نے تو فیصلے میں دیر کرنی ہی نہیں
ضبط میں نے ڈھونڈھنا ہے ہاتھ چھڑوانے کے بعد
میں بظاہر ٹھیک ہوں لیکن مرے اندر کہیں
بن تو جانا ہے خلا یوں آپ کے جانے کے بعد
فضل الرحمن
No comments:
Post a Comment