HD

Saturday, 15 February 2025

کھڑکی  سے ایک چھوٹے سے شہر کی کچھ روشنیاں نظر آرہی تھیں اور میں سوچ رہا تھا  ' اچھا !! تو یہ ہے دبئی'

بھورے رنگ کی ریت کے ٹیلوں اور بے آب و گیاہ میدانوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے ایک پتلے سے رن وے پر ٹیکسی کرتا ہوا پی آئی اے کا بوئنگ 720 خراماں خراماں ایک چھوٹی سی سہ منزلہ عمارت کی جانب رواں تھا ۔ الغوزے پر بجتی ہوئی دھن “ لنگ آجا پتن چناں دا یار “ کو روک کر ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا کہ باہر کا درجہ حرارت  چالیس ڈگری سنٹی گریڈ ہے ہمارا قیام یہاں تقریباً پینتالیس منٹ رہے گا۔ جو مسافر یہاں سے آگے سفر کررہے ہیں وہ اگلے اعلان کے بعد جہاز سے اتر کر کچھ دیر کے لئے ڈیوٹی فری شاپ میں جاسکتے ہیں۔ اپنا قیمتی سامان اپنے ساتھ لے جانا نہ بھولیے۔ 
Published from Blogger Prime Android App
سورج غروب ہورہا تھا جب جہاز اس عمارت کے سامنے رکا جس کی چھت پر ایک جانب ائیر کنٹرول ٹاور بھی نصب تھا ایک  درمیانے سائز کے ٹرک کے اوپر نصب سیڑھی جہاز کے دروازے سے لگا دی گئی۔ پہلے وہ مسافر اترے جن کی یہ منزل تھی ان کے بعد ٹرانزٹ والوں کو اترنے کی اجازت ملی۔ 

جہاز کی سیڑھی سے محض چند قدم کے فاصلے پر اس عمارت کا داخلی دروازہ تھا جہاں لگ بھگ ایک درجن دوکانیں تھیں جن پر ڈیوٹی فری لکھا ہوا تھا۔ 

نیشنل اور سونی کے ریڈیو کیسیٹ پلئیرز، جے وی سی کے وی سی آر اور ان کے کیسیٹ، یاشیکا کے کیمرے اور ان کے کوڈک اور فیوجی کے رولز، کچھ رنگ برنگی چاکلیٹس، ایک حصے میں پرفیوم اور عطر، ایک حصے میں سگریٹ، ایک دکان بغیر سلے کپڑوں کی تھی جہاں جاپانی سلک اور بوسکی کے تھان رکھے تھے۔ ایک چھوٹا سا بوتھ کولڈ ڈرنکس کا تھا ۔ ٹرانزٹ کے مسافر دوڑ دوڑ کر اپنے مطلب کی شاپنگ کر رہے تھے۔ دوکانوں پر پاکستانی روپیہ بھی قابل قبول تھا ۔
 بیس منٹ بعد ہی ہاتھ میں لٹکی چھوٹی سی گھنٹی بجاتے پی آئی اے کے گراؤنڈ اسٹاف نے با آواز بلند گھوم پھر کر کہنا شروع کردیا۔ پی آئی اے سے نیروبی جانے والے گیٹ نمبر ایک سے جہاز پر تشریف لے جائیں۔  نیروبی والے ، نیروبی والے ، گیٹ نمبر ایک پر ۔۔۔مسافروں نے جلدی جلدی اپنی ڈیوٹی فری شاپنگ ختم کی ۔ اور پی آئی اے کا عملہ تقریباً ہانک کر انہیں جہاز کی سیڑھی کی جانب لے گیا۔  

کچھ دیر بعد اندھیرے میں کہیں کہیں روشن لائٹس کے بیچ سے گزرتا ہوا پی آئی اے کا بوئنگ رن وے پر اپنی دوڑ مکمل کر کے فضا میں بلند ہورہا تھا۔
یہ میرا پہلا بین الاقوامی سفر سوئے کینیا تھا ۔ یہ بات ہے اپریل 1982 کے پہلے ہفتے کی۔

کھڑکی  سے ایک چھوٹے سے شہر کی کچھ روشنیاں نظر آرہی تھیں اور میں سوچ رہا تھا 

' اچھا !! تو یہ ہے دبئی'

( عابد علی بیگ )

No comments:

Post a Comment