میرے پاس الفاظ نہیں۔۔۔ بحیثیت انسان بحیثیت ایک عورت اور سب سے بڑھ کر بحیثیت ایک ماں کے میرے پاس فقط آنسو ہیں اور وہ میں آج سہ پہر سے مسلسل بہا رہی ہوں۔۔۔ آج کے سانحے کا آسیب کلیجہ نوچ رہا ہے ۔۔۔ نوفل عثمان کے کالج کا ساتھی اور بہت پیارا دوست ابھی ابھی ایف ایس سی فرسٹ ایر سے سیکنڈ ایر میں آیا تھا کالج کی چھٹی ہوئی میرا بچہ ابھی گھر پہنچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھیوں نے فون پر یہ اندوہناک خبر سنائی
حسن شدید زخمی ہے تم کالج کے ریکارڈ میں سے اس کے والد کا نمبر

نکال کر دو انہیں فون کرکے اطلاع دینی ہے
چند منٹ بعد دوبارہ کال آئی
” ہمارا دوست نہیں رہا “
نوفل کالج سے گھر پہنچا تو ہمیشہ کی طرح میں کچن میں مصروف تھی میں منتظر رہی کہ وہ حسب معمول سلام کرتے ہوئے کچن میں داخل ہوگا پیچھے سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہے گا ” مورے آج کالج میں یہ ہوا فلاں سر نے تعریف کی فلاں دوست کا یہ مسلہ ہے وغیرہ ۔۔۔ لیکن وہ خلاف معمول بالکل چپ تھا اس کی آنکھیں سرخ اور چہرہ زرد لگ رہا تھا میں نے ڈانٹا صبحِ خالی پیٹ کافی پیو گے تو ایسی ہی شکل بنے گی
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا ” مورے ۔۔۔حسن مر گیا ہے “
میں ساکت سی کھڑی سوچتی رہی کون سا حسن ہو سکتا ہے ؟
اللہ وہ والا نہ ہو ۔۔۔ نہیں خدایا وہ بھی نہ ہو وہ تو جوان بچہ ہے ۔۔۔ لیکن ان کے علاؤہ وہ والا حسن نکلا جس کے نہ ہونے کی دعا بھی میں نے نہیں مانگی تھی ۔۔۔ وہ شاید اکلوتا بیٹا تھا باپ چائنا میں تبلیغی جماعت کے ساتھ گیا ہوا ہے
آج حسب معمول کالج سے بی آر ٹی میں نہیں بیٹھا دوستوں نے اصرار کیا کہ ہمارے ساتھ چلو وہ بولا ” یار جلدی جانا ہے آج رکشے میں جا رہا ہوں “ اسے جلدی تھی وقت پر وہاں پہنچنے کی جہاں سے وہ ہم سب کو خوب رلا رہا ہے۔۔۔ وہ موبائل چھین رہے تھے آئی فون 12 تھا پتہ نہیں متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے حسن نے ماں باپ کی کتنی منتیں کی ہوں گی اس فون کے لیے ۔۔۔ شائد ایف ایس سی میں اچھے نمبرز کا ٹارگٹ بھی ملا ہو جیسا کہ ہم سب اپنے بچوں کو دیتے ہیں ۔۔۔ پانچ سو تک نمبرز لیے تو جو کہو گے لا دیں گے
چلو چار سو اسی میں کرکٹ کی کٹ دلواوں گی اس سے اوپر لیے تو فلاں چیز
آج کل کے بچوں کی جان ہوتی ہے فون میں گیمز ٬ کتابیں فلمیں ٬ موسیقی ٬ سوشل میڈیا ٫ واٹس ایپ ٬ دوستوں سے رابطے ٬ محبتیں ٬ تخلیقی کام ریسرچ ورک سب کچھ تو اس میں سمایا ہوا ہے۔
وہ مزاحمت کرتا رہا ۔۔۔۔فون بچاتا رہا لیکن خود نہ بچ پایا ۔۔۔ ظالموں نے سر پر وار کیے چہرہ لہو لہان ہوا اس نے پھر بھی مزاحمت جاری رکھی جو اس کی بڑی غلطی تھی اس شہر کے باسی جان و مال کی نہیں صرف جان کی حفاظت کے لیے چپ چاپ جیبیں خالی کرتے رہیں تو ٹھیک ہے باقی یہاں قانون کے رکھوالے نہیں بلکہ ٹھیکے دار فقط ماہواریوں کی بانٹ میں مصروف ہیں ۔۔۔ محرر ایس ایچ او۔۔۔ ڈی ایس پی ۔۔ ایس پی ۔۔۔ سی سی پی ۔۔۔ آئی جی سب ہاتھی کے کان میں سو رہے ہیں ۔۔۔ ایک ہی بہانہ ہے اپنی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کا کہتے ہیں افغان مہاجر یہ سب کر رہے ہیں ۔۔۔ افغان مہاجر تو کئی دہائیوں سے آپ کا پیٹ بھر رہے ہیں سرخ و سفید رنگت چھوٹی چھوٹی آنکھیں مخصوص حلیہ ۔۔۔ لو جی پکڑ لو آئی ڈی کارڈ نہیں ہے مہاجر ہے ۔۔ حوالات میں بند کردو
گھر والے خود نہیں آ سکتے کہ ہمیں بھی حوالات میں ڈال دیں گے
قریبی بااثر شخص کو ڈھونڈیں گے جو کہ مقامی ہو
منت زاری کے ساتھ کچھ فروٹ کولڈ ڈرنکس وغیرہ لے جائیں گے وہ ناظم ہو کسی کمیٹی کا چیئرمین یا پھر ایم این اے ۔۔۔ ایم پی اے مفت میں کام نہیں کرتا کیونکہ مہاجرین ووٹ تو دے نہیں سکتے مہاجر کارڈ سے ۔۔ پھر کیا فایدہ خدمت خلق کا
پولیس سے معاملات طے ہوتے ہیں بات پچاس ہزار پر ختم ہوجاتی ہے
جس میں سے آدھے بااثر شخصیت کی جیب میں جاتے ہیں اور باقی کے حرامخور پولیس والے کی جیب میں ۔۔۔ وہ پیسے کہاں خرچ ہوتے ہیں یہ سب لکھنا چاہ کر بھی نہیں لکھ پاؤں گی کیونکہ اتنی گندگی ہضم کرنا مشکل ہے سب کے لیے ۔۔۔ تو نتیجہ کیا نکلا ۔۔۔ افغان مہاجرین ہمیشہ سے وہ مرغیاں ہیں جو سونے کے انڈے دے رہی ہیں چاہے اس کام کے لیے انہیں بےگناہوں کا خون ہی کیوں نہ پینا پڑ جائے ۔۔۔ کسی بھی ادارے کا سربراہ ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوتا رہتا ہے لیکن سیاسی بنیادوں پر اہم عہدوں کی تقرریاں امن و امان کی دشمن ہیں ۔۔۔ کسی گینگ پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوتا اوپر سے مٹی پاؤ کے فون آ جاتے ہیں اور آٹے میں نمک برابر ایماندار پولیس والے بھی مجبور کر دیے جاتے ہیں ۔۔ آج خاص طور پر پشاور پولیس پر اتنا غصہ ہے کہ بیان نہیں کر سکتی ۔۔ میڈیا والوں کی اکثریت شہر میں ہونے والے کرائم پر اپنے مفادات کا پردہ ڈالے رکھتی ہے خاص طور پر کرائم رپورٹرز سب ٹھیک ہے کی رپورٹس کو کیش کراتے ہیں ہر ادارہ خودغرضی کی زمین کھود کھود کر جوان لاشوں پر مٹی ڈال ڈال کر ایسے سانحات کو زمین کی تہہ یعنی کہ پاتال تک پہنچا دیتا ہے
چلو جی حسن گیا روز ایسے حسن مرتے ہیں کوئی نئی بات تو نہیں
اک ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تو کیا ہوا ؟
پشاور کی مائیں تو درسگاہوں میں جگر کے ٹکڑے بھیج کر چین سے ویسے بھی نہیں بیٹھ سکتیں آرمی پبلک سکول کے سانحے نے برسوں سے دلوں میں دھڑکا لگا رکھا ہے
ہر صبح جب میرے بچے گھر سے درسگاہوں کے لیے نکلتے ہیں تو کئی کئی بار آیت الکرسی پڑھ کر پھونکتی ہوں
لبوں پر دعا ہوتی ہے کہ خیر سے لوٹ کر آئیں
اور جن ماؤں کے شھزادے خیر سے نہیں لوٹتے ان کے حال کا سوچ سوچ کر دل پھٹ رہا ہے
اگر ایسے شھزادوں کے قتل پر آئی جی صاحب کے استعفے کا رواج ہوتا تو بخدا خیبر پختونخوا پولیس کا آئی جی ہر روز بدلتا لیکن یہاں تو
سیاسی وابستگی نے افسران کی پشت مضبوط کی ہوتی ہے انہیں پراگرس کی ٹینشن نہیں وہ تو چین کی بانسری بجا رہے ہیں شہر جلے یا کسی کا گھر ان کی بلا سے
وہ اس کی راکھ بھی بیج دیں گے
نیرو تو بانسری بجاتا تھا یہ لوگ جلتے شہر کی آگ پر ہاتھ تاپ رہے ہیں ۔۔۔ میں بد دعا نہیں دوں گی کیونکہ ماں ہوں ۔۔۔ یہ نہیں کہوں گی کہ ظالموں کے بچوں سے یہ بدلے نکلیں بچے خدا کسی ظالم کے بھی یوں نہ مارے جیسے ہمارے مارے جا رہے ہیں
بس اتنا کہنا ہے کہ آپ چاہے پولیس والے ہیں چاہے میڈیا والے ہیں یا پھر عام شہری ہیں جلد یا بدیر یہ آگ آپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گی آپ جو ہاتھ تاپ رہے ہیں راکھ ہوکر رہیں گے اگر اس آگ پر بےحسی کا پیٹرول چھڑکنا بند نہ کیا ۔۔ احساس کا پانی ہی اسے بجھا سکتا ہے خوابیدہ ضمیروں کو اسی پانی کے چھینٹے مار مار کر جگانے کی کوشش کرنی ہوگی ہاں جن کے ضمیر مر چکے ہیں انہیں راکھ ہو جانا چاہیے ۔۔۔ کاش حسن طارق کے والدین کے حق میں کی گئی ہم سب کی دعائیں قبول ہوجائیں
No comments:
Post a Comment