HD

Monday, 1 May 2023

کل رات تیری یاد نے ، طوفاں وہ اُٹھایا  آنسُو تھے کہ پلکوں پہ ، ٹھہرنے کے نہیں تھے 

بات کرنے کو لینا پڑتا ہے اب سہارا اداسی کا 
کل جو پہروں گزر جاتے تھے سلام دعا کے بعد
Published from Blogger Prime Android App
نیاز حسین نیاز

گاہل کیتی نا کر نکھیڑے دی
تیکوں جلدی وڈی ہے جھیڑے دی

تیڈے ہونڑ دے نال سب کجھ ہے
توں تاں رونق ہیں ساڈے ویھڑے دی

ثمن عباس
‏دُکھ یہ ہے ، میرے یُوسف و یعقوب کے خالِق
وہ لوگ بھی بِچھڑے ، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے

اے بادِ سِتم خیز ، تیری خیر کہ تُو نے
پنچھی وہ اُڑائے ، جو اُڑنے کہ نہیں تھے

تم سے تو کوئی شکوہ نہیں ، چارہ گری کا
چھوڑو ، یہ میرے زخم ہیں ، بَھرنے کے نہیں تھے

اے زیست !! اِدھر دیکھ ، کہ ہم نے تیری خاطِر 
وہ دِن بھی گزارے ، جو گزرنے کے نہیں تھے 

کل رات تیری یاد نے ، طوفاں وہ اُٹھایا 
آنسُو تھے کہ پلکوں پہ ، ٹھہرنے کے نہیں تھے 

اے گردشِ ایام !!  ہمیں رَنج بہت ہے 
کچھ خواب تھے ایسے ، کہ بِکھرنے کے نہیں تھے!

راکب مختار
اس نے کہا کہ کون سا تحفہ ہے من پسند
‎میں نے کہا وہ شام, جو اب تک ادھار ہے

‎اس نے کہا خزاں میں ملاقات کا جواز ؟
‎میں نے کہا کہ قرب کا مطلب بہار ہے
 ظلم  اتنا  نہ  میرے  ساتھ  کرے
تھام  کر  ہاتھ  پھر  نہ  ہاتھ  کرے

اس سے بولو کہ میں پریشاں ہوں
اس سے بولو کہ مجھ سے بات کرے
 عیادت کو مری آ کر وہ یہ تاکید کرتے ہیں 
تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو 
- مرزا داغ دہلوی
 اب وقت جدائی ہے مجھے اب الوداع کہ دو
اب پھر وہ تنہائی ہے مجھے اب الوداع کہ دو
میں لاکھ برا ٹھہرا یاروں کی نظر میں
دل رو تو رہا ہے مجھے اب الوداع کہ دو
میرا دل بھی تمہارا ہے میری خوشیاں تمہاری ہیں
مبارک تم یہ خوشیاں مجھے اب الوداع کہ دو
 لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
 تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

ہائے اس وقت کو کوسوں کہ دعا دوں یارو 
 جس نے ہر درد مرا چھین لیا ہے مجھ سے

دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے 
 ایسا لگتا ہے کوئی جرم ہوا ہے مجھ سے
‏جانے کس کرب سے گزروں گا وفا ہونے تک.!!
زخم اور  بگڑ جائیں گے دوا ہونے تک .!!

آدمی  لاکھ  کرے کوئی تمنا پھر بھی!!
حسرتیں خواب ہی رہتی ہیں فنا ہونے تک .!!
 آج میں خود سے ہو گیا  مایوس
آج اک یار مر گیا میرا 

کوئی مجھ تک پہنچ نہیں سکتا 
اتنا آسان ہے پتا میرا
 دو چار باتیں وہ لوگ بھی سُنا کر گئے ہم کو
جن کی قمیضوں پر اپنا گریبان تھا ہی نہیں

اتنے پارساٶں میں پھر دم نہ گُھٹتا تو  کیا ہوتا
جو  بھی ملا فرشتہ ہی ملا انسان تھا ہی نہیں
میں تو اے عشق تیری کوزہ گری جانتا ہوں 
تو نے ہم دو کو ملایا تو بنا ایک ہی شخص​

عباس تابش

ساری دنیا میں مرے جی کو لگا ایک ہی شخص
ایک ہی شخص تھا ایسا بخدا ایک ہی شخص​

ایسا لگتا ہے سبھی عشق کسی ایک سے تھے 
ایسا لگتا ہے مجھے ملتا رہا ایک ہی شخص​

وہ جو میں نے اُس کی محبت بھی کسی اور سے کی
اُن دنوں شہر کا ہر شخص لگا ایک ہی شخص​

میں تو اے عشق تیری کوزہ گری جانتا ہوں 
تو نے ہم دو کو ملایا تو بنا ایک ہی شخص​

مجھ سے ناراض نہ ہونا مرے اچھے لوگو !
کیا کروں میری محبت نے چُنا ایک ہی شخص​

تو جو کہتا ہے ترے جیسے کئی اور بھی ہیں
تجھ کو دعویٰ ہے تو پھر خود سا دِکھا ایک ہی شخص​

تو جسے چاہتا ہے میں بھی اُسے چاہتا ہوں 
اچھا لگتا ہے مجھے تیرے سوا ایک ہی شخص​

دوست ! سب سے کہاں کھنچتا ہے غزل کا چلّہ 
حجرہء میر میں ہوتا ہے سدا ایک ہی شخص
تم زمینوں سے رابطہ رکھنا 
اپنے پرکھوں سے رابطہ رکھنا

باپ کے بعد التجا ہے مری 
اپنی بہنوں سے رابطہ رکھنا

گر  بھی جاۓ جو خاندانی شجر
پھر بھی شاخوں سے رابطہ رکھنا 

دور رہنا ہمیشہ بستی سے  
پر پرندوں سے رابطہ رکھنا 

التجا بھی جو  کر نہیں  پائیں 
ایسی نظروں سے رابطہ رکھنا

چھوڑ دینا بھلے زمانے کو 
اپنی ماٶں سے رابطہ رکھنا 

پھول رکھنا نہ میری تربت پر 
صرف زندوں سے رابطہ رکھنا

No comments:

Post a Comment