وہ اک شخص ، جو کم کم میسر ہے ہم کو
آرزو ہے کسی روز وہ سارا مل جائے !!!!


اسے کہنا کہ ملاقات ادھوری تھی وہ
اسے کہنا کہ کبھی آکر دوبارہ مل جائے.
نادر اشیاء کی جگہ چھانٹ کے لائے پتھر
ہم نے کس شوق سے کمرے میں سجائے پتھر
حرفِ حق، حرفِ غلط کرنے کو آئے پتھر
میں نے سچ بول کے ہر دور میں کھائے پتھر
ہم نے بے فیض چَٹانوں میں کِھلائے گٗلزار
ہم نے زرخیز زمینوں سے اُگائے پتھر
روز اُبھرتے رہے دیوارِ مُقابل بَن کر
اپنی راہوں سے بہت ہم نے ہَٹائے پتھر
کیا خبر کون سے عالَم میں اٹھی تھیں نظریں
میں نے دیکھا تو ستارے نظر آئے پتھر
یہ محبت کا جو اَنبار پڑا ہے مجھ میں
اِس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں
چھینٹ اک اُڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کُھلا
ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں
میری پیشانی پہ اُس بَل کی جگہ ہے ہی نہیں
صبر کے ساتھ جو ہَموار پڑا ہے مجھ میں
ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے
دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں ؟
میرا دامن بھی کوئی دستِ ہَوَس کھینچتا ہے
ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں
کس نے آباد کِیا ہے مری ویرانی کو ؟
عشق نے ؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں
میرے اُکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا
میں نہیں، میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں
مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی
ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں
اے برابر سے گزرتے ہوئے دُکھ ! تَھم تو سہی
تجھ پہ رونے کو عِزا دار پڑا ہے مجھ میں
میرا ہونا، مرے ہونے کی گواہی تو نہیں
میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں
بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں
کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں ؟
سحر کو کھوج، چَراغوں پہ انحصار نہ کر
ہَوا سے دوستی رکھ، اُس کا اعتبار نہ کر
یقین کر او محبت ! یہی مناسب ہے
زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر
یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط نَدامت ہے
تُو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر
مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں
تُو میرا سوگ مَنا، مجھ کو سوگوار نہ کر
ہے کون کون مرے ساتھ اِس مصیبت میں ؟
میں اپنے ساتھ نہیں ہوں، مجھے شمار نہ کر
میں خاک ! خود تجھے لبیک کہنے والوں میں
مجھے بُلاوا نہ دے، میرا انتظار نہ کر
جانے تیرے ہجر کی مجھ پر کتنی راتیں باقی ہیں
جانے کتنا وقت پڑا ہے میرے واپس آنے میں
داؤد سیدؔ 🖤
مجھے بھی اپنے مطابق بنانا چاہتا ہے
یہ وہ سماج نہیں جس کا آدمی ہوں میں
انجم سلیمی
تیری یاد میں رفتہ رفتہ بکھر رہی ہے میری ذات
لوٹ آؤ نا کہ کل عید ہے اور آج چاند رات...💔🥀
عید کے دن بھی تقدیر سے مجبور تھے ہم
رو پڑے مل کر گلے تیری تصویر سے ہم...🥀
No comments:
Post a Comment