HD

Monday, 13 March 2023

تم اگر مجھ کو نہ چاہو گی تو کوئی بات نہیں تم کسی اور کو چاہو گی تو مشکل ہو گی

تم اگر مجھ کو نہ چاہو گی تو کوئی بات نہیں
تم کسی اور کو چاہو گی تو مشکل ہو گی
.
اب اگر میل نہیں ہے تو جدائی بھی نہیں
بات توڑی بھی نہیں تم نے، نبھائی بھی نہیں
یہ سہارا ہی بہت ہے مرے جینے کے لئے
تم اگر میری نہیں ہو تو پرائی بھی نہیں
میرے دل کو نہ سراہو تو کوئی بات نہیں
غیر کے دل کو سراہو گی تو مشکل ہو گی
.
تم حسیں ہو، تمہیں سب پیار ہی کرتے ہوں گے
میں جو مرتا ہوں تو کیا اور بھی مرتے ہوں گے
سب کی آنکھوں میں اسی شوق کا طوفاں ہو گا
سب کے سینے میں یہی درد ابھرتے ہوں گے
میرے غم میں نہ کراہو تو کوئی بات نہیں
اور کے غم میں کراہو گی تو مشکل ہو گی
.
پھول کی طرح ہنسو، سب کی نگاہوں میں رہو
اپنی معصوم جوانی کی پناہوں میں رہو
مجھ کو وہ دن نہ دکھانا تمہیں اپنی ہی قسم
میں ترستا رہوں، تم غیر کی بانہوں میں رہو
تم جو مجھ سے نہ نباہو تو کوئی بات نہیں
کسی دشمن سے نباہو گی تو مشکل ہو گی
.
ساحر لدھیانوی
Published from Blogger Prime Android App
گردِ سوز و ملال سینے میں
دم دما دم دھمال سینے میں

ضرب در ضرب دھنستی جاتی ہے
میرے سینے کی ڈھال سینے میں

تنگ دل شخص مشورہ ہے مرا
ایک کھڑکی نکال سینے میں

شب میں کروٹ بدل نہیں پایا
چبھ رہے تھے سوال سینے میں

لب پہ میرے درود رہتا ہے
اور محمد کی آل سینے میں

وقت خوش کاٹ مصطفیٰ جاذب
اتنی نفرت نہ پال سینے میں

ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے 
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے 

درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا 
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

عکسِ شکستِ خواب __ بہر سُو بکھیریے
چہرے پہ خاک، زخم پہ خوشبو بکھیریے

دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو
تارے نہیں نصیب تو آنسو بکھیریے

پروین شاکر

جنوں کی راہ سے اپنا گزر تو ہونا تھا 
اُدھر جو حال تھا ان کا اِدھر تو ہونا تھا

چلی تھی سیلی ہوا بے قرار تھیں موجیں
سکوتِ شب میں یہ ساحل بھنور تو ہونا تھا

بہت سے دوست تھے اور شہر بھی شناسا تھا
تمھارے شہر میں یوں دربدر تو ہونا تھا

وہ ایک اشک کا قطرہ ، نمک ہی تھا لیکن 
مگر جو دل پہ گرا تھا ، اثر تو ہونا تھا

نہ پوچھ کیسے پتا چل گیا زمانے کو
تھا عشق مشک کا قصہ، خبر تو ہونا تھا 

شائستہ مفتی
گفت معشوقے بعاشق کاے فتیٰ
تو بغربت دیدہء ۔۔۔۔ بس شہرہا

پس کدامیں شہر زانہا خوشترست
گفت آں شہرے کہ دورے دلبرست

ایک معشوق نے عاشق سے کہا، اے نوجوان! تو نے مسافرت میں بہت سے شہر دیکھے ہیں۔ ان میں کونسا شہر زیادہ بہتر ہے؟
اس نے کہا ۔۔۔۔۔۔ وہ شہر جس میں معشوق رہتا ہے۔

رومی علیہ الرحمہ

No comments:

Post a Comment