1999 کا واقعہ ہے- جنرل مشرف ملک کے حکمراں تھے، باوردی اور طاقتور حکمراں-
ایک دن ڈاکٹر ظفر الطاف سے فرمائش کردی کہ مجھے زیتون کا خالص تیل لاکر دو-

مشرف ترکی میں رہے تھے جہاں زیتون بہت کاشت ہوتا ہے- ڈاکٹر ظفر الطاف پشاور پہنچے اور ایگری کلچر ریسرچ سینٹر ترناب فارم کے ڈائریکٹر اور اپنے دوست ڈاکٹر زرقریش کو بتایا کہ صدر صاحب نے زیتون کے خالص تیل کی فرمائش کی ہے-
زرقریش خان اس انوکھی فرمائش پر حیران رہ گئے- ان کے ایک دوست تھے میاں جاوید، جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا- انہوں نے بتایا کہ ہمارے علاقے کے پہاڑوں پر زیتون کے بہت درخت لگے ہوئے ہیں جن پر پھل بھی لگتا ہے- ایک پرانی مشین بھی لگی ہوئ ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے-
زرقریش خان یہ جان کر حیران رہ گئے- انہوں نے پوچھا کہ وزیرستان میں زیتون کے پودے کس نے لگوائے- جواب ملا کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب اٹلی سے کئ سو پودے اپنے ساتھ لائے تھے اور وزیرستان میں لگوائے تھے-
کچھ دنوں کے بعد میاں جاوید نے وزیرستان سے ڈھائ تین من زیتون کے پھل منگواکر ڈاکٹر زرقریش کے حوالے کردیئے-
ڈاکٹر صاحب نے پھلوں کو چکھا تو انتہائ کڑوے نکلے- اب مرحلہ تھا ان پھلوں سے تیل کے حصول کا-
سینٹر میں ایک ٹیکنیشن تھا جس کا نام طورے تھا- وہ ناخواندہ تھا لیکن اپنے کام میں مہارت انجینئیرز سے زیادہ تھی- اس نے بتایا کہ سینٹر میں ایک پرانی مشین پڑی ہوئ ہے جو ہاتھ سے چلتی ہے- یہ مشین اٹلی والوں نے 80 کی دہائ میں دی تھی لیکن ہم نے اسے کبھی چلایا نہیں ہے- طورے مٹی کے تیل سے چلنے والی اس مشین کو چند گھنٹوں کی محنت کے بعد چلانے میں کامیاب ہوگیا- ہم نے پھلوں کو اس مشین میں ڈالا تو گہرے سبز رنگ کا گاڑھا تیل نکلا-
ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ملتان میں سیون برادرز والوں سے رابطہ کریں- وہ ضرور کوئ حل بتادیں گے-
ڈاکٹر زرقریش نے انہیں فون کرکے مسئلہ بتایا تو انہوں نے ایک خاص قسم کی ملتانی مٹی بھجوادی- اور ہدایت کی کہ تیل کو اس مٹی میں ڈال کر چند گھنٹے چھوڑ دیں- اس کے بعد تیل کو الگ کرلیں-
چند گھنٹوں کے بعد تیل کا رنگ بہت ہلکا ہوگیا- ڈاکٹر صاحب نے لیبارٹری میں اس کی جانچ کروائ اور ایوان صدر لے کر پہنچ گئے- جنرل مشرف بہت خوش ہوئے اور تفصیل پوچھی- جب یہ معلوم ہوا کہ وزیرستان میں بھٹو صاحب نے زیتون کے پودے لگوائے تھے تو جنرل مشرف نے ستائشی کلمات کہے اور ڈاکٹر زرقریش سے کہا کہ آپ نے زیتون کے لاکھوں پودے لگانے ہیں- میں پاکستان میں ترکی جیسے باغات دیکھنا چاہتا ہوں- اس کام کے لئے ایک ارب درکار ہیں یا دو ارب ۔۔۔ حکومت فوری طور پر منظوری دے گی، لیکن آپ نے یہ کام لازمی کرنا ہے- ڈاکٹر صاحب نے جنرل مشرف سے کہا کہ چند ملین روپے سے یہ کام ہوجائے گا، مجھے اربوں روپے کی ضرورت نہیں ہے-
ڈاکٹر زرقریش خان اور ان کی ٹیم نے اس کے بعد دو پی سی ون بنائے اور جلال آباد جاکر زیتون کی مختلف اقسام کے لاکھوں پودے حاصل کئے اور پشاور اور مردان میں لگوائے-
ڈاکٹر خان نے پاکستان میں کنولا اور سورج مکھی کے ہائبرڈ بیج بھی تیار کئے تھے- اس کام کی وجہ سے انہیں صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا-
ڈاکٹر صاحب اب اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں-
گذشتہ سال راقم اور شبیر سومرو نے ان سے ملاقات کی سعادت حاصل کی اور پاکستان میں زیتون کی کاشت کی تاریخ کے موضوع پر کئ گھنٹے تک گفتگو کی-
میری خواہش ہے کہ پاکستان میں زراعت کے اس بڑے محسن کی حیات و خدمات کو کتابی شکل دی جائے کہ صوبہ سرحد ( کے پی کے) کا ایک نوجوان کیسے اس پیشے سے منسلک ہوا، کس طرح اعلی تعلیم کے لئے پہلے بیروت اور پھر امریکہ کا سفر کیا اور کس طرح پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لئے افغانستان سے پودے لے کر آیا - یہ ساری داستان بڑی دلچسپ ہے اور یقینی طور پر نئ نسل کو ڈاکٹر زرقریش خان سے متعارف ہونا چاہیئے-
ڈاکٹر فیاض عالم
No comments:
Post a Comment