HD

Wednesday, 15 February 2023

جلا ہے     عزیزو    وطن  دیکھتے ہیں   تماشہ     یہ اھلِ    سخن دیکھتے ہیں    

مِٹتی  ہوئی  تہذیب  سے  نفرت  نہ کیا کر
چوپال پہ بُوڑھوں کی کہانی بھی سنا  کر

رفیق سندیلوی
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا ...
تری  گلی  سے  نہ  جانے  کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ ...

ناصر کاظمی
Published from Blogger Prime Android App
تیرے وعدوں پہ کہاں تک میرا دِل فریب کھائے... 
کوئی  ایسا  کر  بہانہ  میری  آس  ٹوٹ  جائے....

فنا نظامی کانپوری

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی 

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا 

چراغ حسن حسرت

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا 
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں 

عبرت مچھلی شہری

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا 

کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں 

ابراہیم اشکؔ

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا 
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا 

داغ دہلوی

وعدہ وہ کر رہے ہیں ذرا لطف دیکھیے 
وعدہ یہ کہہ رہا ہے نہ کرنا وفا مجھے 

جلیل مانک پوری

مخلوق تو فنکار ہے اس درجہ کہ پل میں​
سنگِ درِ کعبہ سے بھی اصنام تراشے​

تو کون ہے اور کیا ہے، ترا داغِ قبا بھی​
دنیا نے تو مریم پہ الزام تراشے​

محسن نقوی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

مومن خاں مومن
تیرے ملنے کے سو بہانے تھے
وە زمانے بھی کیا زمانے تھے۔

"اختر شیرانی"

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا 
دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا 

مصطفی زیدی

جلا ہے     عزیزو    وطن  دیکھتے ہیں 
 تماشہ     یہ اھلِ    سخن دیکھتے ہیں 
  
اڑا کر   گلوں سے   سبھی تیتلیوں کو 
خزاں کے   پجاری چمن د  یکھتے ہیں 

بہر سو   لٹی  عصمتوں کے ہیں نوحے 
مگر یہ   محافظ کفن     دیکھتے  ہیں 

دبا کر   سلا کر   بجھی سیسکیوں کو 
لٹیرے    لٹے سے    بدن  دیکھتے  ہیں 

بجھاتی   نہيں  جسکو  باد  صبا بھی 
دلوں میں  وہ جلتی  اگن دیکھتے ہیں 
  
 یہاں چاند روتے ہیں   چہرہ  چھپاکر 
 وہ شرسےبھراجب  زمن دیکھتے ہیں 

تو  سمجھےگا  کیا مری   آہو  فغاں کو 
مجھےلوگ خود میں مگن دیکھتےہیں 

یہ نظروں سےکرتے ہیں گھائل جگرکو 
مسیحا بھی بن کر  سجن دیکھتےہیں        

چلاے ہی جاتے ہیں صحرامیں مضطرؔ       
کہاں  وہ   ہماری   تھکن  دیکھتے ہیں
 
خالد مضطرؔ

صوفی تجھے خبر ہی نہیں راز عشق  کی
آنا  ہمارے پاس کبھی  ہم  بتائیں گے
ہم خود بتائیں گے تمہیں اپنی برائیاں
وہ اس  لئیے کہ لوگ تمہیں کم بتائیں گے🖤


No comments:

Post a Comment