گدھے نے چیتے سے کہا کہ گھاس نیلی ہے۔ چیتے نے کہا آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ گھاس سبز ہے۔ بحث نے طول پکڑا اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ کسی ثالثی کی مدد سے معمہ حل کرتے ہیں۔
دونوں جنگل کے بادشاہ شیر کے پاس پہنچے اور پہنچتے ہی گدھا چلانے لگا "ظل سبحانی کیا یہ درست نہیں کہ گھاس نیلے رنگ کی ہوتی ہے؟"
شیر نے کہا "اگر آپ کو یقین ہے کہ گھاس نیلی ہے تو یقیناً نیلی ہی ہوگی۔"

گدھے نے یہ سنا تو خوشی سے اچھل پڑا اور چلا کر کہا "آقا چیتا یہ مان نہیں رہا۔ میرے ساتھ اتفاق نہیں کرتا اور مجھے خوامخواہ ناراض کرتا ہے۔" شیر نے کہا کہ چیتے کو سزا ملے گی۔ تین دن خاموشی کی سزا سنائی گئی۔
گدھا ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا، خوشی سے چلاتا "گھاس نیلی ہے۔ گھاس نیلی ہے۔" چلا گیا۔
تخلیے میں چیتے نے شیر سے پوچھا "آپ کا اقبال بلند ہو۔ آپ نے مجھے سزا کیوں دی؟ آخر آپ بھی جانتے ہیں کہ گھاس سبز ہی ہوتی ہے۔"
" سزا کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ گھاس سبز ہے یا نیلی ہے۔ سزا آپ کو اس لیے ملی ہے کہ ایک ذہین اور باشعور مخلوق ہونے کے باوجود آپ نے گدھے کے ساتھ بحث کی ہے۔ پھر ایک چیز کی حقیقت اچھی طرح سمجھنے کے باوجود سوال لے کر میرے پاس آئے کہ اس پر مزید مہر تصدیق ثبت ہو۔"
No comments:
Post a Comment