تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
ہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں پکارا ہوتا
جتنی شدت سے میں وابستہ تھا تم سے فرحت
کس طرح میرا ترے بعد گزارا ہوتا
مجھ کو یہ سوچ ہی کافی ہے جلانے کے لیے
میں نہ ہوتا تو کوئی اور تمہارا ہوتا
اور ہم بیٹھ کے خاموشی سے روئے جاتے
شام ہوتی، کسی دریا کا کنارا ہوتا
دل سے دیکھی نہیں جاتی تھی خموشی گھر کی
کس طرح اجڑا ہوا شہر گوارا ہوتا
چاند ہوتا کہ مری جان ستارہ ہوتا
ہم نے اک تیرے سوا دل سے اتارا ہوتا
تو نے سوچا ہے کبھی کتنا محبت کے بغیر
روح فرسا دل ویراں کا نظارا ہوتا
فرحت عباس شاہ

میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو
کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے ؟
تم پرندوں کے درختوں کے مصور ہو میاں
کس طرح سبزۂ پامال بنا پاؤ گے؟
سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو
آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟
جو مقدر نے میری سمت اچھالا تھا کبھی
میرے ماتھے پہ وہی جال بنا پاؤ گے؟
مل گئی خاک میں آخر کو سیاہی جن کی
میرے ہمدم وہ میرے بال بنا پاؤ گے؟
یہ جو چہرے پہ خراشوں کی طرح ثبت ہوئے
یہ اذیت کے مہ و سال بنا پاؤ گے؟
زندگی نے جو میرا حال بنا چھوڑا ہے
تصویر کا وہ حال بنا پاؤ گے؟
میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو
کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے ؟
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے

باندھ لیں ہاتھ پہ __ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ __ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں __ تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں __ چنبیلی سا لگا لیں تم کو
جیسے بالوں میں کوئی __ پھول چنا کرتا ہے
گھر کے گلدان میں __ پھولوں سا سجا لیں تم کو
کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں _ ہمارے دل میں
کر کے منا سا __ ہواؤں میں اچھالیں تم کو
اس قدر ٹوٹ کے __ تم پہ ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں __ مار ہی ڈالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح _ آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح __ دل میں بلا لیں تم کو
ہے تمہارے لیے کچھ __ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں __ دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو
جان دینے کی اجازت بھی __ نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی __ مر کے منا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک مکانوں میں ___ سجا لیں تم کو
اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ __ ہم سنبھالیں تم کو
No comments:
Post a Comment