HD

Thursday, 12 January 2023

 گستاخ صحابہ علیہم الرضوان کا عبرتناک انجام* حضرتِ سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللّٰهِ العظیم فرماتے ہیں

*گستاخِ صحابہ علیہم الرضوان کا عبرتناک انجام*
حضرتِ سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللّٰهِ العظیم فرماتے ہیں، مجھے حضرتِ سیدنا ابوالحصیب بشیر رحمۃ اللّٰهِ تعالیٰ علیہ نے بتایا کہ میں تجارت کیا کرتا تھا اور اللّٰه عزوجل کے فضل و کرم سے کافی مال دار تھا۔ مجھے ہر طرح کی آسائشیں میسر تھیں اور میں اکثر ایران کے شہروں میں رہا کرتا تھا۔
ایک مرتبہ میرے ایک مزدور نے مجھے خبر دی کہ فلاں مسافر خانے میں ایک شخص مرگیا ہے، وہاں اس کا کوئی بھی وارث نہیں، اب اس کی لاش بے گور و کفن پڑی ہے۔'' جب میں نے یہ سنا تو میں مسافر خانے پہنچا، وہاں میں نے ایک شخص کو مردہ حالت میں پایا، اس کے پیٹ پر کچی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک چادر اس پر ڈال دی، اس کے پاس اس کے کچھ ساتھی بھی تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا:'' 
Published from Blogger Prime Android App
یہ شخص بہت عبادت گزار اور نیک تھا لیکن آج اسے کفن بھی میسر نہیں اور ہمارے پاس اِتنی رقم بھی نہیں کہ اس کی تجہیز و تکفین کر سکیں۔'' جب میں نے یہ سنا تو اُجرت دے کر ایک شخص کو کفن لینے کے لئے اور ایک کو قبر کھودنے کے لئے بھیجا اور ہم اس کے لئے کچی اِینٹیں تیار کرنے لگے، پھر میں نے پانی گرم کیا تاکہ اسے غسل دیں۔ ابھی ہم لوگ انہیں کاموں میں مشغول تھے کہ یکایک وہ مردہ اُٹھ بیٹھا، اینٹیں اس کے پیٹ سے گِر گئیں، پھر وہ بڑی بھیانک آواز میں چیخنے لگا: ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! جب اس کے ساتھیوں نے یہ خوفناک منظر دیکھا تو وہ وہاں سے بھاگ گئے۔ میں اس کے قریب گیا اور اس کا بازو پکڑ کر ہلایا۔ پھر اس سے پوچھا: ''تُو کون ہے اور تیرا کیا معاملہ ہے؟ ''
وہ کہنے لگا:'' میں کوفہ کا رہائشی تھا اور بدقسمتی سے مجھے ایسے برے لوگوں کی صحبت ملی جو حضراتِ سیدنا صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ ان کی صحبتِ بَد کی وجہ سے میں بھی ان کے ساتھ مل کر شیخین کریمین رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیا کرتا اور ان سے نفرت کرتا تھا۔
سیدنا ابوالخصیب علیہ رحمۃ اللّٰهِ اللطیف فرماتے ہیں، میں نے اس کی یہ بات سن کر اِستغفار پڑھا اور کہا:'' اے بدبخت! پھر تو تجھے سخت سزا ملنی چاہیے اور تُو مرنے کے بعد زندہ کیسے ہوگیا؟'' تو اُس نے جواب دیا: ''میرے نیک اعمال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی گستاخی کی وجہ سے مجھے مرنے کے بعد گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور وہاں مجھے میرا ٹھکانا دکھایا گیا، وہاں کی آگ بہت بھڑک رہی تھی۔
پھر مجھ سے کہا گیا: ''عنقریب تجھے دوبارہ زندہ کیا جائے گا تا کہ تُو اپنے بدعقیدہ ساتھیوں کو اپنے درد ناک انجام کی خبر دے اور انہیں بتائے کہ جو کوئی اللّٰه عزوجل کے نیک بندوں سے دشمنی رکھتا ہے اس کا آخرت میں کیسا درد ناک انجام ہوتا ہے، جب تُو ان کو اپنے بارے میں بتا دے گا تو پھر دوبارہ تجھے تیرے اصلی ٹھکانے (یعنی جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔''
یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تا کہ میری اس حالت سے گستاخانِ صحابہ کرام علیہم الرضوان عبرت حاصل کریں اور اپنی گستاخیوں سے باز آجائیں ورنہ جو کوئی ان حضرات کی شان میں گستاخی کریگا اس کا انجام بھی میری طر ح ہوگا۔'' 
اِتنا کہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مردہ حالت میں ہوگیا۔میں نے بھی اور دیگر لوگوں نے بھی اس کی یہ عبرتناک باتیں
 سنیں، اتنی ہی دیر میں مزدور کفن خرید لایا، میں نے وہ کفن لیا اور کہا:'' میں ایسے بدنصیب شخص کی ہرگز تجہیز و تکفین نہیں کروں گا جو شیخین کریمین رضی اللّٰهُ تعالیٰ عنہما کا گستا خ ہو، تم اپنے ساتھی کو سنبھالو میں اس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔''
اِس کے بعد میں وہاں سے واپس چلا آیا پھر مجھے بتایا گیا کہ اس کے بدعقیدہ ساتھیوں نے ہی اسے غسل و کفن دیا اور ان چند بندوں ہی نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، ان کے علاوہ کسی نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کی، اس کے بدعقیدہ ساتھیوں کی بدبختی دیکھو کہ وہ پھر بھی لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے ہمارے ساتھی کی نمازِ جنازہ میں شرکت کیوں نہیں کی؟۔
حضرتِ سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللّٰهِ العظیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا ابوالحصیب علیہ رحمۃ اللّٰهِ اللطیف سے پوچھا: ''کیا تم اس واقعے کے وقت وہاں موجود تھے ؟ ''انہوں نے جواب دیا:'' جی ہاں! میں نے اپنی آنکھوں سے اس بدبخت کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس کی باتیں سنیں۔''
یہ سن کر حضرتِ سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللّٰهِ العظیم نے فرمایا: ''اب میں بھی اس بے ادب و گستاخ شخص کی اس بدترین حالت کی خبر لوگوں کو ضرور دوں گا۔
(اللّٰه عزوجل ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سے محفوظ رکھے، اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سچی محبت عطا فرمائے، ان کی خوب خوب تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللّٰهُ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

۔؎؎
محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

صحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادم
یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یا رسول اللّٰه
(صلی ﷲُ عليہ وآلہ وسلم)
(عیون الحکایات ، جلد اوّل ، حکایت نمبر 118).
✍🏻ابو محمد، محمد ذاکِر حسین قادری منظوری عفی عنہ

No comments:

Post a Comment