📜 *حرف حرف حقیقت*
تحریر:- واصف علی واصف
قسط نمبر◉≼✾•━••• 14
🕯️زیر نظر مجموعہ، اخلاقیات، سیرت، اسوہ، تصوف اور ادب کا ایک اعلی نمونہ لئے ہوۓ، صوفیانہ ادب کا محور و مرکز، صوفی باصفا، بے مثل درویش اور صاحب اسلوب ادیب، واصف علی واصف کے صوفیانہ نثر پاروں کا مجموعہ جس میں انہوں نے صوفیانہ ادب کو نئی آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔
❤️
*آدھا رستہ*

انسان عجب مخلوق ہے… سوچتا ہے… عمل کرتا ہے اور عمل کے عین دوران پھر سوچتا ہے اور اپنے عمل پر نظرثانی کرتے کرتے اپنی اس سوچ پر بھی نظرثانی کرتا ہے جس کے تحت سفر کا آغاز کیا تھا… یہ کھیل جاری رہتا ہے، آری کے دندوں کی طرح… اور انجام کار یہ سوچ در سوچ کی آری افراد کو اور قوموں کو کاٹ کے رکھ دیتی ہے…
جذبے سرد پڑ جاتے ہیں… سفر کی لذت ختم ہو جاتی ہے… عمل سے حاصل ہونے والی عزت نفس ندامت میں بدل جاتی ہے اور سفر بند ہو جاتے ہیں… قافلے پڑاؤ پر پڑے رہتے ہیں… منزل سے محروم ،بد دل مسافر ایک نئی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور نئی بستیاں بسانے کے درپے ہو جاتے ہیں… گھر چھوڑ کر سفر پہ نکلے اور مسافرت میں منزلیں فراموش کرکے نئے گھر بنانے شروع کر دیتے ہیں کل کی سوچ کو غلط سمجھ کر انسان آج کی سوچ پر ناز کرتا ہے… آنے والی کل میں یہ سوچ بھی غلط ہو سکتی ہے۔
بس تذبذب کے اس مقام کو ہی آدھا راستہ کہتے ہیں… واپس جانا نا ممکن ہوتا ہے… آگے جانے کی ہمت نہیں ہوتی… یہی زوال ملت ہے کہ مقصد ہی بھول جائے… اور مقصد نہ رہے تو سفر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انسانی عقل راستوں میں رہ جاتی ہے ،منزل پر پہنچانے والی کوئی اور سوچ ہے… وہ دانش نورانی ہے… وہ علم آسمانی ہے…
وہ فیصلہ کسی اور طرف سے آتا ہے… انسانی سوچ کو تذبذب سے بچانے کیلئے پیغمبر تشریف لائے اور لوگوں کو بتایا کہ یہ عارضی اور فانی سوچیں ہیں… اصل بات خدا کی بات ہے… اور اصل سفر اطاعت کا سفر ہے ،جسے منزل نصیب ہوتی ہے… ابلیس نے اطاعت نہ کی… اس نے غرور کیا ،تکبر کیا ،اس نے سوچا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مٹی سے بنے ہوئے آدم کو سجدہ کیا جائے جبکہ وہ نار سے پیدا ہوا… یہی سوچ کا زوال ہے… آدھے رستے کا مسافر ابلیس تھا… مقرب تھا ،معتوب ہو گیا ،رجیم ہو گیا… جب سوچنے کے بعد کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو اللہ پر بھروسہ کرکے منزل پر ہی ڈیرے ڈالنا چاہئیں… یہی کامیابی ہے… بدنصیب ہیں وہ مسافر جو آدھے سفر کے بعد ذوق سفر سے محروم ہو جائیں… مقصد فراموش قومیں اور افراد آدھے رستے پر رک جاتے ہیں…
بعض اوقات ہم اکثریت کے فیصلے پر سفر اختیار کرتے ہیں… یہ سفر بھی مشکوک ہوتا ہے… اکثریت متلون ہو سکتی ہے ،بے خبر ہو سکتی ہے ،بے علم ہو سکتی ہے ،غافل ہو سکتی ہے ،آرام پرست اور آرام طلب ہو سکتی ہے… جہاں اکثریت کاذب ہو ،وہاں صداقت کا سفر کیسے ہو سکتا ہے… اگر منافقین کی اکثریت کے حوالے کر دیا جائے ،تو بھی فیصلہ غلط ہوگا… اللہ نے بیان فرمایا کہ ”اگر منافقین رسولﷺ کے پاس آکر یہ اعلان کریں کہ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔
“ تو اے حبیب! میں جانتا ہوں کہ تو رسولﷺ ہے… لیکن یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ منافق غلط کہتے ہیں۔“ یعنی جھوٹے لوگ سچ بولیں تو بھی جھوٹ ہے ،وہ کوئی صحیح فیصلہ کریں تو بھی غلط ہے… وہ کسی صحیح منزل کی نشاندہی کریں تو بھی نتیجہ غلط ہو گا… سچ وہ جو سچے گروہ کا فیصلہ ہو… سچی اقلیت کاذب اکثریت سے بہت بہتر ہے… محض اکثریت پر مبنی سب فیصلے قابل غور ہیں…
جب تک سچے لوگوں کی اکثریت نہیں ہوتی ،جمہوری فیصلے غلط ہیں… سربراہ ،امیر المومنین ہونا چاہئے… امیر الکاذبین اور امیر المنافقین ملت پر عذاب کے نزول کا باعث ہو سکتے ہیں… جھوٹے کے مقدر میں آدھا رستہ ہے… جھوٹے راہی کی منزل آدھا رستہ ہے… صداقت کی منزلیں صادقوں کیلئے ہیں… بعض اوقات ”امیر“ کی صداقت قوم میں صداقت فکر پیدا کر دیتی ہے…
قائداعظم کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ صادق تھے… صداقت ہی ان کی خودی تھی… ان کا اپنا کردار قوم میں وحدت کردار پیدا کر گیا… لوگ ان کے حکم پر مر مٹے… وطن سے بے وطن ہوئے… مہاجرین بن گئے… سب کچھ لٹا کے بھی خوش بختی کا احساس رہا… ایک عظیم مقصد کیلئے جان اور آن کی پرواہ کئے بغیر لوگ آمادہٴ سفر ہوئے… بات بہت دور تک نکل جاتی اگر قائد کچھ دیر اور زندہ رہتے…
وحدت کا تصور دینے والا مر گیا اور قوم میں انتشار سا پیدا ہو گیا… قائد کی بے وقت رحلت نے سفر کی رفتار کم کر دی… سفر کا رخ وہ نہ رہا… ان کی بنائی ہوئی صادق اکثریت ،بے مقصد ہجوم میں تبدیل ہو کر رہ گئی… اکثریت کو صداقت آشنا کیا جائے ،اس میں حق گوئی اور بیباکی پیدا کی جائے… یہ مرحلہ طے ہو جائے تو جمہوریت سے بہتر کیا ہو سکتا ہے… ورنہ وہی بات کہ بس آدھا سفر… آدھا راستہ… خدانخواستہ…
انسان فطری طور پر انقلاب پسند ہے… اسے یکسانیت پسند نہیں… یہ ورائٹی چاہتا ہے… یہ بدلتا رہتا ہے… انسان لباس بدلتا ہے ،لہجے بدلتا ہے ،دوست بدلتا ہے ،جماعتیں بدلتا ہے ،پارٹیاں بدلتا ہے ،ہارس ٹریڈنگ کرتا ہے ،یہ محسن فراموشیاں کرتا ہے ،رشتے بدلتا ہے اور مقصد بھی بدل دیتا ہے… اس کے پاس ہر کام کا جواز ہے… پرانے فیصلے کا اس کے پاس قوی جواز تھا ،آج نئے فیصلوں کا جواز ہے ،غالباً یہی انقلاب کا باعث ہے…
آدم کو بہشت میں رہنا اس لئے بھی راس نہ آیا کہ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا، کوئی انقلاب نہیں تھا ،بولنے کیلئے کوئی فورم نہیں تھا انہوں نے ایک ترکیب سوچی… شجر ممنوعہ کا ذائقہ چکھ لیا… بس انقلاب آ گیا… ہنگامہ بپا ہو گیا… اگر اخبار ہوتے تو شہ سرخیاں چھپ جاتیں…
بہشت ان کے ہاتھ سے نکل گیا… انقلاب کامیاب ہو گیا اور زندگی ناکام… اللہ نے آدم کیلئے شیطان کو نکال دیا اور آدم نے شیطان کیلئے اللہ کے امر کو چھوڑ دیا… بہشت کا سفر آدھے رستے ہی میں ختم ہو گیا پھر زمین کا سفر… زمین کے مقاصد ،عزائم اور عمل… سب نامکمل… حضور اکرمﷺ کی معراج کے علاوہ ابھی سب کچھ راستے میں ہی ہے… ابھی آدھا رستہ ہی طے ہوا ہے… ابھی تو ملت آدم تفریق ہوئی ہے… یہ سفر مکمل ہو گا وحدت آدم پر… ستاروں کی وحدت کہکشاں پیدا کرتی ہے ،ننھے چراغوں کی وحدت سے چراغاں پیدا ہوتے ہیں ،قطروں کی وحدت سے قلزم اور دریا کے جلوے پیدا ہوتے ہیں…
آدھے رستے کے مسافروں کو جگایا جائے ،انہیں پھر سے آمادہ کیا جائے… ان میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ کارواں پھر سے رواں ہو جائے… منزلیں انتظار کر رہی ہیں اور مسافر ہیں کہ آدھے رستے میں سوئے پڑے ہیں…
ذوق سفر کا پیدا کرنا قیادت کا فرض ہے… قائد کو چاہئے کہ وہ قوم میں بیداری کی روح پھونک دے… ذوق سفر عطائے رحمانی ہے… رحمت حق کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے کہ اے مہرباں اللہ ،دے ہمیں کوئی حدی خواں جو زندگی پیدا کر دے اس قوم میں… مطلب پرستی جمود پیدا کر رہی ہے ،وطن پرستی تحریک پیدا کرے گی… یہ قوم… ”خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ۔
“
غریبوں کو نان و نفقہ کے مسائل اور مراحل سے آزاد کرایا جائے۔ ان کی زندگی میں امید کی شمع روشن ہونی چاہئے… انہیں مایوسی کی تاریکی سے نکالنا چاہئے… تاکہ وہ بھی وطن پرستی کے عظیم مقصد اور سفر میں شامل ہوں… امیروں سے پیسے کی محبت نکال لی جائے… انہیں مال کی نمائش کا موقع نہ دیا جائے… ان کی شادیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جائے… انہیں ایک سادہ زندگی کا شعور دیا جائے .
تاکہ وہ بیچارے بھی حصول منزل ملت کے عمل میں شریک ہو سکیں… ورنہ آدھے راستے کی بدقسمتی سے بچنا مشکل ہوگا یہ سب کا سفر ہے سب کیلئے ،یہ سب کا مقصد ہے سب کیلئے ،یہ سب کا ملک ہے سب کیلئے ،یہ سب کے وسائل ہیں سب کیلئے غور کیا جائے… اللہ آسانیاں پیدا کرے گا… جس مقصد کیلئے یہ ملک بنایا تھا… یاد تو ہے؟ اگر یاد ہے تو حاصل کرنے میں کیا دیر ہے…
کیا اب اکثریت سے پوچھا جائے گا کہ اسلام کیا ہوتا ہے… اسے کیسے حقیقی معنوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے… یہ بات خدا سے پوچھی جائے ،قرآن سے معلوم کیا جائے ،اللہ کے رسولﷺ کے فرامین سے روشنی حاصل کی جائے… گردش لیل و نہار پر نگاہ رکھنے والے بیدار روح انسانوں سے رجوع کیا جائے .
،وحدت عمل اور وحدت کردار کا پھر سے پیدا ہونا مشکل نہیں ہے… صاحبان اقتدار صادق ہو جائیں ،ہر طرف صداقت ہی صداقت ہو جائے گی… شکر ہے کہ بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے… قافلہ آدھے رستے میں ہی تھک کر سستا رہا ہے… جاگو اور جگاؤ… وقت انتظار نہیں کرتا… مواقع اپنے آپ کو دہراتے نہیں… مرتبے اور آسائشیں ملتی ہیں کہ اپنے آپ کو خوش نصیب بنایا جائے… خوش نصیب بننے والا سب کو خوش نصیبی عطا کرے… قافلہ بددل ہو گیا ہے… اس کی تکالیف کا ازالہ کیا جائے
،اسے گلے اور تقاضوں سے نجات دی جائے… یہ قوم جاگ گئی تو قوموں کی امامت کا فریضہ اسی کو سونپا جائے گا… حال کی خوشحالی میں مست ہو کر مستقبل کے فرائض فراموش نہ ہوں… وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب اقبال کے خواب کی تعبیر میسر ہو… قائداعظم کی محنت کا صلہ حاصل ہو… قوم کیلئے شہید ہونے والوں کی روحوں کو قرار نصیب ہو… ہم منزل فراموش نہ ہوں تو آنے والی نسلیں ہمیں عزت سے یاد کریں گے…
اپنی لاڈلی اولاد کیلئے پیسہ جمع کرنا ہی مقصد نہیں ہے… اگر اولاد نے مفت حاصل ہونے والا مال گناہ میں لگایا تو اس گناہ کی سزا ،پیسہ مہیا کرنے والوں کو بھی ملے گی… اگر اولاد کو تصور پاکستان سے متعارف نہ کرایا گیا ،شعور عظمت اسلام کی تعلیم نہ دی گئی .
تو خدا نہ کرے ہمارے لئے ”آدھے رستے کے مسافروں“ کا طعنہ ہوگا… خدا ہمیں اس عذاب سے بچائے… ہم عظیم قوم ہیں… ہمیں عظیم تر ہونا چاہئے… یہ ملک خدا کا ہے ،خدا کے رسولﷺ کا ہے ،انہی کی منشا کے مطابق چلنا چاہئے…
📚 صوفیانہ رنگ میں رنگی، بصیرت افروز اور ایمان پرور، واصف علی واصف کے چند مضامین کو یکجا کر کے اس کتاب میں زندگی کی حقیقتوں کو بڑی خوبصورتی سے موتیوں میں پرویا گیا ہے۔۔۔ ➖◉◉
طالب دعا عبدالحق
No comments:
Post a Comment