HD

Thursday, 22 December 2022

پانچ سال پہلے کا واقع ____________ سرگودھا دوست کے پاس گیا ____

پانچ سال پہلے کا واقع ____________
سرگودھا دوست کے پاس گیا ________رستے میں کون دلہن تھی جس کی شادی تھی لیکن وہ بھاگنے کو تیار تھی۔۔۔۔۔۔۔
سچا واقع _________
رائٹر یاسین بلوچ ___________
یہ تقریبا پانچ سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔ میں اپنے دوست علی شاہ کی دعوت پر اس کےگاوں شاہ جہانیاں جا رہا تھا ۔۔۔  اس لئے مجھے بس پر جانا پڑا ۔۔۔۔ بس نے مجھے دوست کے گاوں سے چار کلو میٹر پہلے اتار دیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ آگے کچی سڑک تھی اور بس کچی سڑک پر نہیں جاتی تھی  ۔۔۔۔ باقی کا راستہ میں نے پیدل طے کرنا تھا ۔۔
Published from Blogger Prime Android App
۔۔ میں نے اپنے سامان کا چھوٹا بیگ اٹھایا ۔۔۔۔ اور چلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
یہ رات کا وقت تھا اور اس وقت تقریبا رات کے بارہ بج رہے تھے اس لئے راستہ بالکل سنسان تھا  ۔۔۔ پھر پاس ایک چھوٹا ٹارچ تھا میں اس کی روشنی میں چل رہا تھا ۔۔۔۔۔
میں اس گاوں میں پہلی بار آ رہا تھا اس لئے مجھے زیادہ راستے نہیں معلوم تھے ۔۔۔ میں بس علی شاہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہا تھا ۔۔۔۔۔
مجھے چلتے چلتے پانچ منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے جب اچانک مجھے کہیں سے ڈھول بجنے کی آواز آئی ۔۔۔ میں نے مڑ کر دائیں بائیں دیکھا کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ مجھے اپنا وہم لگا اور میں چلنے لگا ۔۔

۔۔ کچھ مزید آگے آ کر بھی مجھے وہی ڈھول کی آواز سنائی دی ۔۔۔ لیکن اب صرف ڈھول کی آواز ہی نہیں تالیوں اور گانا بجانے کی آواز بھی سنائی دینے لگی ۔۔۔ میں حیران تھا کہ اتنی رات کو گانے اور ڈھول کون بجا رہا ہے ۔۔۔۔  میں نے ان آوازوں پر زیادہ توجہ نہیں دی اور چلتا رہا ۔۔۔۔۔ کچھ اور آگے آ کر مجھے سامنے بہت ساری روشنیاں نظر آئیں ۔۔۔۔ بہت سارے لائٹس جل رہے تھے ۔۔
۔ 
مجھے کافی حیرانگی ہوئی کہ اس سنسان کچی سڑک پر کون لائٹیں جلائے ہوئے ہے ۔۔۔۔ میں چلتا جا رہا تھا اور آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ مزید آگے آ کر مجھے وہاں کافی لوگ بھی نظر آئے جو تالیاں اور ڈھول بجا رہے تھے ۔۔۔۔۔
فوری طور پر مجھے یہی سمجھ آیا کہ کسی کی شادی ہے ۔۔۔۔ لیکن اتنی رات کو اتنے سارے درختوں کے درمیان کس کی شادی تھی ۔۔۔۔  چونکہ وہ راستے پر کھڑے تھے اس لئے مجھے ان کے پاس سے گزرنا تھا ۔۔۔

 ان کے پاس جا کر میں نے ان کو سلام کیا ۔۔   انہوں نے مسکراتے ہوئے میرے سلام کا جواب دیا ۔۔ دولہا ، دلہن سامنے کھڑے تھے اور کچھ باراتی ناچ رہے تھے ۔۔۔ زور زور سے ڈھول بج رہی تھی ۔۔۔۔
ایک بوڑھے آدمی نے آگے بڑھ کر مجھ سے پوچھا ۔۔  

کون ہو بیٹا کہاں جانا ہے تم نے ۔۔۔۔۔ ؟ 
میں نے بتایا ۔۔۔ میرا دوست علی شاہ اسی گاوں میں رہتا ہے اسی کے پاس جا رہا ہوں ۔۔۔۔ ' 
اس بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔ 
لگتا ہے تم کافی دور سے آ رہے ہو تھک چکے ہو ۔۔۔۔ آو بیٹھو ۔کھانا وغیرہ کھاو۔۔۔ ' 
میں نے کہا جی نہیں شکریہ ۔۔۔ میں کھانا کھا کر آیا ہوں     
لیکن پھر دلہن آگے بڑھی اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔
چلیں بھائی کھانا کھا لیں ۔۔۔ کیوں نخرے کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔
میں اس دلہن کے یوں ہاتھ پکڑنے پر حیران تھا ۔۔۔ پھر انہوں نے مجھے فرش پر پڑی قالین پر بٹھا دیا ۔۔۔۔ اور کچھ لوگ میرے لئے کھانا لے آئے ۔۔۔۔ مجھے بھوک تو اتنی نہیں تھی لیکن کھانا دیکھ کر مجھے کافی بھوک محسوس ہوئی ۔۔۔۔ کھانے میں انہوں نے بہت کچھ دیا ۔۔۔۔ اور میں کھانے لگا ۔۔۔ وہ سب لوگ ناچ رہے تھے گانے گا رہے تھے ۔۔۔۔

 اور میں قالین پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہر طرف بڑے بڑے درخت تھے ۔۔۔۔ میں نے جلدی جلدی کھانا ختم کیا اور ان سب سے اجازت لے کر روانہ ہوا ۔۔۔۔۔۔
میں ابھی تھوڑا ہی آگے آیا تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی میرے پیچھے آ رہا ہے ۔۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔۔۔۔ وہ وہی دلہن تھی جس کی شادی تھی  ۔۔۔ وہ میرے پیچھے تیزی سے چلی آ رہی تھی ۔۔۔ میں نے رک کر اس کو دیکھا ۔۔۔ میرے پاس پہنچ کر وہ دلہن بولی ۔۔۔۔
' آپ کہاں جا رہے ہیں  ۔۔۔ 
میں نے کہا ۔۔ میں اپنے دوست کے گھر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
وہ بولی ۔۔۔۔
مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔۔۔ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ گھر والے ذبردستی میری شادی کر رہے ہیں ۔۔۔ '
میں  اس کی بات سن کر حیران رہ گیا ۔۔۔ اور میں نے تحمل سے کہا  ۔۔۔
' میں آپ کو اپنے ساتھ کیسے لے جا سکتا ہوں ۔۔۔۔ ' 
میری بات سن کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔۔  وہ ضد کر رہی تھی مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔۔۔۔ میں اس سچوئیشن سے حیران ہو گیا ۔۔۔۔ سمجھ میں نہیں آیا میں کیا کروں ۔۔۔۔۔
اتنے میں اس دلہن کے کچھ رشتے دار وہاں آ گئے اور زبردستی اس دلہن کو پکڑ کر وہاں سے لے گئے ۔۔۔ وہ دلہن روتی رہی چیختی رہی ۔۔۔ لیکن میں اس کی کچھ مدد نہ کر سکا ۔۔۔ پھر میں جلدی جلدی گاوں کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔ اس کے بعد وہ دلہن مجھے نظر نہ آئی ۔۔۔۔ 

میں تیزی سے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔ اب صرف ایک کلو میٹر باقی تھا ۔۔۔  میرے پاس فون بھی نہی تھا  اس لئے میرا اپنے دوست سے کوئی رابطہ نہیں تھا ۔لیکن میں نے کل ہی کال کر کے اپنے دوست کو آمد کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔ یہ تو اچھا ہوا کہ مجھے میرا دوست علی شاہ سامنے نظر آ گیا ۔۔۔  اور میں نے علی شاہ کو سلام کیا ۔۔۔۔ علی مجھے دیکھتے ہی بولا ۔۔۔
یار تم نے آنے میں اتنی دیر کر دی ۔۔۔ بس تو جلدی آ جاتی ہے ۔۔۔ ' 
میں نے علی شاہ سے کہا ۔۔  
ہاں یار تھوڑا لیٹ ہو گیا ۔۔۔۔ راستے میں ایک شادی تھی ۔۔۔ انہوں نے مجبور کیا اور میں نے کھانا کھایا ۔۔۔۔ ' 
میری بات سن کر علی کافی حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگا اور بولا  ۔۔۔ 
شادی اور اتنی رات کو ۔۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔ ' 
میں نے کہا ہاں یار شادی میں دیر ہو گئی ۔۔۔ علی نے کہا ۔۔۔
' یار تم کیسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔ اتنی رات کو کس کی شادی ہو سکتی ہے اور یہ میرا گاوں ہے میں اس گاوں میں سب کو جانتا ہوں ۔۔۔ آج کسی کی شادی نہیں تھی ۔۔۔ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے ۔۔۔۔ ' 
علی کی بات سن کر میں حیران ہوا ۔۔۔ میں نے علی کو یقین دلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
یار یہاں پاس ہی راستے میں جو بہت سارے سفیدوں کے درخت ہیں ان کے پاس ہی شادی تھی ۔۔۔۔  ' 
علی نے بے یقینی سے مجھ دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
جہاں سفیدوں کے درخت ہیں وہاں کوئی راستہ ہے ہی نہیں کیونکہ وہاں بہت بڑا قبرستان ہے ۔۔۔۔ ' 
علی کی بات سے میں صدمے میں آ گیا ۔۔
  ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہاں کوئی قبرستان نہیں تھا میں نے کوئی قبرستان نہیں دیکھا وہاں راستہ تھا اور سفیدوں کے درخت ۔۔۔۔۔ ' 
علی میری بات سن کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
نہیں یار ۔۔۔ یہاں کوئی راستہ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ یہاں بہت بڑا قبرستان ہے اور سفیدوں کے درخت صرف قبرستان کے پاس ہیں ۔۔۔۔ ' 
میں نے کہا 
 اگر تمہیں میری بات کا یقین نہیں ہے تو خود چل کر دیکھ لو ۔۔۔۔۔۔ وہاں شادی ہو رہی ہے بہت سارے لوگ جمع ہیں ۔۔۔ ' علی شاہ نے کہا ۔۔۔
چلو چل کر دیکھتے ہیں تمہاری غلط فہمی دور ہو جائے گی ۔۔۔۔۔    بہت جلد مکمل کروں گا ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا رستے میں شادی تھی___________وہ دلہن کون تھی ______جانیے بہت جلد یاسین بلوچ_________فالو بھی کر لیا کرو جناب 

No comments:

Post a Comment