مجھ سے کسی نے پوچھا کون ہو آپ
میں نے جواب دیا میں وہ فقیر ہوں جسکو اپنی ماں نے نہیں پہچانا ۔ایک دن میں اسی لباس میں آیا اور گھر کے سامنے بیٹھ گیا تو بھائی نے دیکھا اور آواز دی ماں ایک فقیر آیا ہے باہر کھانے کو کچھ دو تب ماں نے سامنے روٹی رکھ دی اور کہا فقیر دعا کرنا میرے بیٹے کےلٸے
میں نے سوال پوچھا
ماں کی انکھوں کا ضبط ٹوٹا اور آنسوؤں کے پیمانے چھلک گٸے
رندھاٸی سی آواز میں کہا آرمی میں ہے ۔لیکن کوئی پتہ نہیں ہوتا بہت کم رابطہ کرتا اور یہی بات بولتا ہے ماں اگر میں لوٹ کر واپس نہیں آیا تو سمجھ لینا مجھ سے اس وطن کی مٹی کے تحفظ کی قسم نےجان مانگی اور اس سر زمین نے گود میں لے لیا ہوگا ۔اور ماں کی انکھوں کا آنسو آج بھی میں نہیں بھول پایا۔
اللہ کی قسم نجانے ایسی کتنی ماؤں کے بیٹے اس وطن کے لیے قربانی دے رہے ہیں ۔
آپ سب سے درخواست ان محافظوں کا ساتھ دو
No comments:
Post a Comment