مشیر برائے وزیراعظم فار احساس پروگرام کی چیئرپرسن محترمہ ثانیہ نشتر صاحبہ آج بذات خود بغیر کسی پروٹوکول کے تن تنہا ٹوپی والا برقعہ پہن کر بوڑھی غریب عورت کی طرح سر بازار پیدل چلتی ہوئی اومنی پلس سنٹر پہنچیں. پہلے تو دوکان کے اندر ایک کونے میں کھڑی ہو کر دیکھتی رہیں اور جائزہ لیتی رہیں کہ کہیں احساس پروگرام کے تحت ملنے والے 12000 روپئے کی ادائیگی کس طرح ہورہی ہے. کہیں دوکاندار بد تمیزی یا بداخلاقی سے تو بات نہیں کررہا. اور یا بارہ ہزار روپئے دیتے ہوئے کوئی پیسے کٹوتی تو نہیں کر رہا کسی بہانے سے..
کچھ دیر بعد خود کاونٹر پر بوڑھی مائی کی طرح چال چلتے ہوئے گئیں اور فرضی نام بتا کر اپنے 12000 کا پوچھا اور جب دوکاندار ریکارڈ چیک کرنے لگا تو اپنا برقعہ اتار کر اسے احساس کرایا اور خاموش پیغام دیا کہ اپ سب لوگوں کو اسطرح بھی چیک کیا جارہا ہے لہذا کوئی ہینکی پھینکی نہ کریں امدادی رقوم لینے والوں کے ساتھ.
بعد ازاں اسے داد دے کر اس طرف چلی گئیں جہاں ساتھ والی بند دوکان کے اگے زمین پر خواتین بیٹھی تھیں. خود بھی انکے ساتھ نیچے بیٹھ گئیں. اور ان سے گھل مل کر بات کرنے ہوئے ان سے معلومات لیتی رہیں.
پھر انکے ساتھ ہی دوسرے اومنی سنٹر پر جا کر کچھ خواتین کو اپنے سامنے رقم چیک کروائی. اور کچھ جن کی رقم کسی اعتراض یا ائیرر کی وجہ سے نہیں مل پارہی تھیں اپنے سیکریٹری عادل صاحب کو درج کرنے کا حکم دیا اور اپنے سامنے انکے شناختی کارڈ کی تصاویر کے ساتھ مذکورہ رپورٹ بھی درج کرائی۔
ویلڈن محترمہ ثانیہ نشتر صاحبہ ویلڈن. رب العزت آپ کے حامی و ناصر ہوں اور اپکو اسی طرح فرائض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرماتے رہیں۔۔
No comments:
Post a Comment