HD

Wednesday, 22 April 2020

ریاست ‏کی ‏ذمہ ‏داری ‏ہے ‏کہ ‏وہ ‏لوگوں ‏کو ‏راشن ‏پہنچائے ‏

"کہاں آپ جناب اور کہاں وہ بھوکے بنگالی"

جیسے ہی کورونا وائرس چین کے ایک شہر میں پھیلا، ویسے ہی بنگلہ ديش کی وزير اعظم شيخ حسينہ واجد نے:
۔ پورا بنگلہ ديش مکمل لاک ڈاٶن کر دیا۔
۔ مساجد بند، کسی پیشہ ور ملا کی مجال نہیں کہ اس پر کوئی احتجاج کرے۔
 ۔ شهر بند، ذرائع  آمد و رفت بند، کسی کی دلالی یونین کی مجال نہیں جو چوں بھی کرے۔
۔ ریاست کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو گھر بیٹھے راشن پہنچائے۔
۔ تو کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے بلا کسی تعطل کے راشن گھر گھر پہنچایا گیا۔
۔ کیونکہ حکومت نے واضح اعلان کیا تھا ،
کہ اگر کسی سرکاری اہلکار نے راشن سپلائی کے عمل میں رتی برابر بھی بےایمانی کی تو ان کی کھال اتار لی جائے گی، نوکری سے الگ ہاتھ دھونا پڑے گا اور باقی زندگی جیل میں سڑے گا وہ الگ۔

(اب آپ پوچھیں گے کہ بھائی )
اس کا نتیجہ کیا نکلا 
نتيجہ یہ نکلا کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی کے حامل ملک میں
۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ہسپتالوں کے پاس مکمل حفاظتی سامان اور بہترين علاج کی سہولیات۔
(۔ نہ صرف روڈ ايمبولينس سروسز بہتر کی گئیں۔
۔ بلکہ ندیوں اور دریاٶں کے کنارے آباد لوگوں کے لئے لانچز اور بڑی کشتیوں پر بنی جدید ایمبولینسز ہر وقت متحرک۔)
۔ اس کے علاوہ جو کمپنی/آجر تنخواہ کی ادائیگی نہیں کر سکتے وہ حکومت سے قرضہ لے کر ورکر کو ادائیگی کریں اور قرضے کی ادائیگی بنگلہ دیش حکومت کو دو سال بعد کرنا ہو گی۔

(۔ بنگلہ ديش میں کورونا وائرس کے کل 70 کيسز رپورٹ ہوئے۔)
(۔ ان میں سے 30 صحتمند ہو کر گھر روانہ ہوگئے۔
۔ صرف 8 اموات ہوئیں۔)
(۔ باقی 32 لوگوں کا علاج جاری ہے جن کی حالت امید افزاء ہے۔)

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ ۔بھوکے بنگالی_کہ جن کے جسموں سے آپ کو مچھلی، پٹ سن اور باردانے کی بدبو آتی تھی وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ^
تو سنیں !
وہ ایسا اس لئے کر سکتے ہیں کہ
جناب والی انھوں  نے ایک آزاد قوم تشکیل۔ دی

No comments:

Post a Comment