نوازشریف دور میں جب طیب اردگان اسلام اباد آئے تھے تب بھی انہوں نے عبدالرحمان پشاوری کا ذکر کیا تھا ۔ کہ وہ انکے ہیرو ہیں ۔ تقریر کے دوران نوازشریف کے ساتھ اسوقت کے گورنر پختونخوا اقبال ظفر جگھڑا بیٹھے ہوئے تھے اس سے پوچھا گیا کہ عبدالرحمان پشاوری کون ہیں ؟
۔ انکو بھی علم نہیں تھا ۔ گنوازشریف دور میں جب طیب اردگان اسلام اباد آئے تھے تب بھی انہوں نے عبدالرحمان پشاوری کا ذکر کیا تھا ۔ کہ وہ انکے ہیرو ہیں ۔ تقریر کے دوران نوازشریف کے ساتھ اسوقت کے گورنر پختونخوا اقبال ظفر جگھڑا بیٹھے ہوئے تھے اس سے پوچھا گیا کہ عبدالرحمان پشاوری کون ہیں ؟۔ انکو بھی علم نہیں تھا ۔ گورنر صاحب نے اپنے سیکرٹری کے ذریعے ادھر ادھر سے پتہ کیا لیکن جواب نہیں ملا ۔ اخر میں پشاور یونیورسٹی کے اسوقت کے وائس چانسلر رسول جان صاحب کو فون کیا گیا ۔
رسول جان صاحب نے پولیئکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالروف کو فون کیا ۔ اور تب عبدالروف صاحب کی وساطت سے عبدالرحمان پشاوری کا پروفائل وزیراعظم نواز شریف کو بھیجا گیا ۔ رسول جان صاحب نے فوراّ عبدالرحمان پشاوری پر ایک قومی کانفرنس بلانے کا حکم دیا ۔ محترم پروفیسر عبدالروف صاحب نے اسی دن مجھ سے کانفرنس کے حوالے سے بات کی ۔ میں نے تیس صفحات کا مقالہ بھی لکھا لیکن کانفرنس منعقد نہ ہو سکی ۔
عبدالرحمان پشاوری یونس جان ۔ یوسف جان اور یحیٰ جان خان کے بھائی تھے ۔ غلام صمدانی کے بیٹے تھے ۔ پشاور میں آج بھی صمدانی صاحب کے نام کا محلہ موجود ہے ۔
عبدالرحمان پشاوری کے بھائی یحیٰ جان خان 1946 میں خدائی خدمتگار حکومت میں وزیر تعلیم تھے اور باچاخان کے داماد تھے ۔ اور سلیم جان خان کے والد تھے ۔ عبدالرحمان پشاوری کے دوسرے بھائی یونس جان ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے ۔ قیدی کے خطوط اور فرنئیر سپیکس انکے شہرہ افاق تصانیف ہیں ۔
عبدالرحمان پشاوری کی زندگی ایک لمبی کہانی ہے مگر بلقان جنگ میں وہ میڈیکل مشن کے ساتھ مدد کرنے ترکی گئے تھے وہیں شہریت دی گئی پہر ترکی کی جانب سے سے افغانستان کے سفیر مقرر ہوئے ۔ استنبول میں روف بے سے شکل ملنے کی وجہ سے قتل کئے گئے تب سے وہ سرکاری ہیرو قرار دئے گئے
اگر ہم مطالعہ پاکستان کی بجائے اپنی اصلی تاریخ نئی نسل کو سکھاتے تو آج ہم بین الاقومی بے عزتی کا نشانہ نہ بنتے ۔
ڈاکٹر سہیل خانورنر صاحب نے اپنے سیکرٹری کے ذریعے ادھر ادھر سے پتہ کیا لیکن جواب نہیں ملا ۔ اخر میں پشاور یونیورسٹی کے اسوقت کے وائس چانسلر رسول جان صاحب کو فون کیا گیا ۔ رسول جان صاحب نے پولیئکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالروف کو فون کیا ۔ اور تب عبدالروف صاحب کی وساطت سے عبدالرحمان پشاوری کا پروفائل وزیراعظم نواز شریف کو بھیجا گیا ۔ رسول جان صاحب نے فوراّ عبدالرحمان پشاوری پر ایک قومی کانفرنس بلانے کا حکم دیا ۔ محترم پروفیسر عبدالروف صاحب نے اسی دن مجھ سے کانفرنس کے حوالے سے بات کی ۔ میں نے تیس صفحات کا مقالہ بھی لکھا لیکن کانفرنس منعقد نہ ہو سکی ۔
عبدالرحمان پشاوری یونس جان ۔ یوسف جان اور یحیٰ جان خان کے بھائی تھے ۔ غلام صمدانی کے بیٹے تھے ۔
پشاور میں آج بھی صمدانی صاحب کے نام کا محلہ موجود ہے ۔ عبدالرحمان پشاوری کے بھائی یحیٰ جان خان 1946 میں خدائی خدمتگار حکومت میں وزیر تعلیم تھے اور باچاخان کے داماد تھے ۔ اور سلیم جان خان کے والد تھے ۔ عبدالرحمان پشاوری کے دوسرے بھائی یونس جان ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے ۔ قیدی کے خطوط اور فرنئیر سپیکس انکے شہرہ افاق تصانیف ہیں
عبدالرحمان پشاوری کی زندگی ایک لمبی کہانی ہے مگر بلقان جنگ میں وہ میڈیکل مشن کے ساتھ مدد کرنے ترکی گئے تھے وہیں شہریت دی گئی پہر ترکی کی جانب سے سے افغانستان کے سفیر مقرر ہوئے ۔ استنبول میں روف بے سے شکل ملنے کی وجہ سے قتل کئے گئے تب سے وہ سرکاری ہیرو قرار دئے گئے
اگر ہم مطالعہ پاکستان کی بجائے اپنی اصلی تاریخ نئی نسل کو سکھاتے تو آج ہم بین الاقومی بے عزتی کا نشانہ نہ بنتے ۔ ڈاکٹر سہیل خان
No comments:
Post a Comment