HD

Friday, 22 November 2019

ایک ارب روپے کا کتنے ھوتے ہے ۔

ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟

پہلی مثال: ۔۔اگر کسی کو ایک ارب روپے،  ایک ایک روپیہ  کی شکل میں دئیے جائیں اور کہا جائے کہ انہیں گنو۔۔۔
اور وہ شخص بغیر کسی وقفے کے دن رات بغیر کھائے پئیے سوئے۔۔۔گننا شروع کرے۔۔۔اور فی سیکنڈ ایک روپیہ گنے۔۔۔تو یہ رقم گنتے گنتے تقریباً 32 سال لگ جائیں گے۔۔۔۔
*دوسری مثال:
* فرض کیجئے۔۔۔ایک شخص*یکم جنوری سن ایک عیسوی کو پیدا ہوا اور اس نے روزانہ ایک ہزار (1000) روپے خرچ کرنا شروع کیے تو وہ تقریباً 2740 سال تک روزانہ یہ رقم خرچ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
یعنی سن ایک عیسوی سے لیکر 31 دسمبر  2018  تک اس نے تقریباً پونے ارب روپے خرچ کئیے ۔۔۔۔
اور بقیہ رقم سے مزید 722 سال تک روزانہ ایک ہزار کے اخراجات کر سکتا ہے۔۔۔۔

اب آخری مثال ۔۔۔۔
فرض کیجئے ایک 10 سال کی عمر کے بچے کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے جمع کروا دئیے جائیں ،

اور وہ بچہ روزانہ تیس ہزار روپے (30000) روپے اکاونٹ سے نکلوا کر کھائے پئیے، کھلونے خریدے، رشتہ داروں میں بانٹے یا ان نوٹوں سے چڑیاں طوطے بنا کر اڑا دے۔۔۔۔۔

پھر دوسرے دن تیس ہزار نکلوائے اور دل کھول کر خرچ کرے۔۔۔۔۔۔اورپھر تیسرے۔۔۔چوتھے۔۔۔۔اسی طرح روزانہ تیس ہزار روپے خرچ کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے ۔
حتی' کہ جوان ہو، ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپے تک پہنچ جائے ۔۔۔اور پھر 100 سال کی عمر تک پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے
تب بھی اس کے اکاونٹ میں تقریباً، ڈیڑھ کروڑ روپے باقی بچ رہیں گے۔۔۔۔
سمجھ میں آئی کوئی بات ؟؟؟؟
اب ذرا سوچئیے ۔۔۔
یہ تو صرف ایک ارب روپے کی بات تھی۔۔

پاکستان میں سوائے چند ایک کے  ہر کسی نے دوچار ارب سے لے کر دو چار سو ارب روپے لوٹے۔۔۔۔
آپ اور میں روزانہ سنتے اور پڑھتے ہیں فلاں نے اتنے ارب روپے کرپشن کی، فلاں نے ملکی خزانے کو اتنے ارب کا نقصان پہنچایا اور کمیشن وصول کیا، اور فلاں نے اتنے اربوں کا ڈاکہ ڈالا۔۔۔۔۔

میں حیران ہوتا ہوں کیا یہ اتنا پیسہ کفن میں ڈال کر قبروں میں ساتھ لے جائیں گے؟؟؟۔۔۔کیا کریں گے ۔۔۔

ضرورتیں تو محدود ہوتی ہیں اور خواہشیں لا محدود۔۔۔۔

اگر ساری دنیا کے کاغذ ، نوٹ بن جائیں تو یہ ان نوٹوں کو اکٹھا کرنے کا سوچتے سوچتے مر جائیں گے۔۔۔قناعت ہرگز نہ کریں گے۔۔۔۔

پاکستان کے خراب معاشی حالات میں ایک فیکٹر یہی ہے ۔۔۔
جیسے بھی ہو، جہاں سے بھی ہو۔۔۔ بس پیسہ اکٹھا کرنا ہے۔۔۔۔

کسی ایک، دو سیاست دانوں کی یا افسروں کی بات نہیں ہو رہی۔۔۔چند ایک کی تخصیص کے بغیر سب کا ایک سا چلن ہے۔۔۔

اپنے عہدے کے زور پر ناجائز کام کرنا،
کم بولی پر ٹھیکے فرنٹ مین کو دلوانا،
سرکاری اراضی،
سرکاری جنگلات بیچ کر تجوریاں بھرنا۔۔۔

یہ سب اور ان جیسے بیسیوں کام ایسے ہیں جو یہ افراد اپنا استحقاق سمجھ کر کرتے ہیں۔۔۔

ان سب پہ کوئی حیرت نہیں،
ملال اور غصہ تو ہے ۔۔ مگر حیرت نہیں۔۔۔
کیونکہ انکو گھٹی ہی حرام مال سے دی گئی ہو گی۔۔۔۔

حیرت اور افسوس اور دکھ اپنے ان دوستوں پر ہوتا ہے جو اپنے ایسے لوگوں کو جانتے ہوئے بھی انکو سپورٹ کرتے ہیں۔

دوبارہ عرض کرتا ہوں۔۔۔۔
کسی ایک پارٹی کی بات نہیں،
کسی ایک بندے کی بات نہیں ہو رہی

کوئی بھی جماعت فرشتوں سے نہیں بنی،
لیکن انسانیت کا معیار تو رکھ ہی سکتے ہیں۔۔۔۔

اگر آپ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح نہیں کہہ سکتے تو پھر آپ کو خراب ملکی حالات اور خراب معاشی حالات اور مہنگائی کا رونا بھی نہیں رونا چاہئیے ....

غیر سیاسی پوسٹ

اللہ تعالیٰ ہمیں شعوری طور پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین

No comments:

Post a Comment