ایک نوجوان شادی کی پہلی رات دیر تک گھر نہیں آیا
ماں بار بار دروازے کو دیکھ رہی تھی کہ بیٹا کب آئگا
ماں کی خواہش تھی کہ میں اور نئی دلہن اور بیٹا اکٹھا کھانا کھائیں
جیتا دیر ہوجاتا ماں کی پرشانی بڑھ جاتی تھی
سردی کا موسم تھا اور ماں کی عمر بھی ذیادہ تھیں
ماں کی جب سردی حد سے بڑھ جاتی تو پانچ منٹ کے لیے کمرے جاتی تھی اور پھر واپس ہو جاتی تھی
ایک دفعہ جب ماں کمرے میں چلی گئی ۔
تو بیٹے نے بازار سے آچھا کھانا لایا اور اس کھانے کی وجہ سے لیٹ بھی ہوا تھا
بیٹا سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا
اور بیوی کو کہا کہ میں نے بازار سے آپ کے لیے اچھا کھانا لایا ہے
بیوی نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن آپ کی ماں نے بھی روٹی نہیں کھائی ہیں
میں ماں کو بلاتی ہوں
تاکہ کھانا بھی کھائیں اور معلوم بھی ہوجائی کہ ان کا بیٹا آیا ہے
بیٹے نے کہا کہ چھوڑ دو ماں کو ہم دونوں کھا کی پھر ماں کو دینگے اور بتا بھی دینگے کہ میں آیا ہو
بیوی نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے
اگر آپ کچھ ہے تو یہ ماں کی وجہ سے ہے اور میں اگر آپ کی بیوی ہو تو یہ بھی آپ کی ماں کی وجہ سے ۔۔۔۔
بہرحال بیٹے کا اصرار تھا
پہلے ہم دونوں کھاتے ہیں پھر ماں کو دینگے
بیوی نے جب دیکھا کہ یہ انسان نما جانور ہیں
تو فورا کہا کہ مجھے طلاق دیدو
میں جانور سے نہیں رہ سکتی ہوں
ماں باہر گیٹ کے ساتھ بیٹے کا انتظار کر رہی تھی ش
ماں نے جب کمرے میں دلہھا اور دلہن کی شور سنی تو حیران ہوگئ کہ بیٹا کب آیا ہے اور شور کیوں ہے ؟
بہرحال جب ماں کمرے کے قریب پہنچ رہی تھیں تو دونوں میاں بیوی کی راستے الگ ہو گئے تھے
بیوی اپنے ماں باپ کی گھر جا کر کچھ عرصے کے بعد دوسرے شادی کی
اور بوڑھی ماں اس یہ صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور اس دنیا سے رخصت ہوگئ انا للہ وانا الیہ راجعون
بیٹے نے بھی کچھ عرصے کے بعد دوسرے شادی کی
30 یا 35 سال کے بعد یہ عورت حج جا رہی تھی اپنے پانچ فرمان بردار اور بہت مالدار لیکن ماں کی غلاموں کی طرح قافلے کے شکل میں جا رہی تھی
راستے میں ایک فیقر بد حالات میں بھیک مانگ رہا تھا
جب عورت نے دیکھا تو اپنے بیٹوں کو کہا کہ اس بندے کو بلاؤ بیٹوں نے فقیر کو بلایا عورت نے جب قریب سے دیکھا تو خود جا کہ فقیر کو کان میں کہا کہ کیا ماجرا ہے کہ آپ بھیک مانگتے ہیں
فقیر نے کہا کہ سارے عمر بہت پیسہ کمایا ابھی جب بوڑھا ہوا ہوں تو بیٹوں نے گھر سے نکالا
اور ابھی مزدوری نہیں کر سکتا ہوں
تو مجبور ہوکر بھیک مانگ رہا ہوں
تو عورت نے کہا کہ میں آپ کی پہلے بیوی ہوں آپ کو اپنے عمل کا سزا مل گیا اور الحمد مجھے اپنی عمل کا جزا
مل گیا ہیں.
HD
Thursday, 27 September 2018
ایک نوجوان کی شادی کی پہلی رات دیر تک گھر نہیں آیا ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment