HD

Wednesday, 18 July 2018

میرے لیے یہ ورلڈ کپ کی بہترین تصویر ہے

کروئشیا
میرے لئے یہ ورلڈ کپ کی بہترین تصویر ہے، آپ سے بھی شیئر کرتا ہوں۔ شاید آپ کو اس میں کچھ انوکھا نہ لگے، کچھ خاص محسوس نہ ہو۔
ٹھہریئے پہلے آپ سے اس کا پس منطر بیان کرتا ہوں۔
آپ اگر دنیا کا تقشہ دیکھیں تو بہت سوں کے لئے کروئشیا کہاں ہے یہ بتانا بھی مشکل ہے۔ اور یہ بات بھی مشکل سے ماننے والی ہے کہ کروئشیا جیسا ایک چھوٹا مشرقی یورپی اور جنگ زدہ ملک، جس کی آبادی محض چالیس لاکھ ہے، دنیائے فٹبال کے سب سے بڑے میلے میں حیرت انگیز طور پر صف اول تک جا پہنچا۔
اتوار کے روز روس میں کھیلے جانے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس کی فاتح عالم کہلانے والی فٹ بال ٹیم کا مقابلہ کروئشیا کی کم زور ٹیم کے ساتھ تھا۔ فرانسیسی ٹیم نے دو کے مقابلے میں چار گول سے یہ میچ جیت لیا۔ فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں کئی عالمی رہ نما موجود تھے۔ ان میں روسی صدر ولادی میر پوٹن اور فرانس کے عمانوئیل میکروں کے ساتھ ساتھ کروئشیا کی خاتون صدر ’کولینڈا گرابگرا کیٹاروفیٹک‘ بھی موجود تھیں۔
جب ریفری نے فرانسیسی ٹیم کی جیت اور کروئشین کے ہارنے کی آخری سیٹی بجائی تو عوام کی طرح کروئشین صدر بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔۔ فرانس اور کروشیا کے صدر نے دونوں ٹیمز کے کھلاڑیوں کو گلے لگا کر داد دی۔ کولینڈا نے جب میچ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ٹیم کے کپتان ماھر لوکا موڈریک کو گلے لگایا اور انہیں آخر تک مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ تاہم موڈریک کو شاباشی دیتے وقت خود کولینڈا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی اور یہ منظر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں دیکھا گیا اور کیمروں کی آنکھ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا!
شاید یہ بات کم لوگ جانتے ہوں کہ کروئشیا کی صدر کولینڈا نے ورلڈ کپ میں کروئشیا کے ہر میچ میں شرکت کی، لیکن اپنے ملک کے سرکاری خزانے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے اکانومی کلاس میں سفر کیا اور اسٹیڈیم میں کروشیا کے مداحوں کے ساتھ بیٹھیں. انہوں نے کھیل کے ان دنوں کی تنخواہ نہیں لی جن دنوں وہ اپنے 'کام' پر نہیں تھیں۔ کروئشیا کی صدر نے فائنل میں دنیا کے بڑے بڑے سربراہان کے ساتھ وی آئی پی ایریا میں ڈریس کوڈ کے باوجود اپنے ملک کے رنگوں کی کروئشین جرسی پہنی اور اختتامی تقریب کے دوران بھی بارش میں بھیگتی رہیں اور کسی سے چھتری تک نہیں مانگی۔
اسے کہتے ہیں قیادت، حب الوطنی، خلوص اور اسے کہتے ہیں کمٹمنٹ۔۔۔
کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیئے کروئشیا کیوں فائنل تک پہنچا!

No comments:

Post a Comment