کالا باغ ڈیم
میاوالی سے بیس میل دور قصبہ کالا باغ یہ علاقہ پجاب کے شمال مغرب کے طرف ہے پاکستان بننے سے پہلے اس مقام پر کیلاے کے بیشمار باغ تھے دور سے یہ باغ سیاہ بادل نظر اتے تھے اس لیے لوگ اسے کالا باغ کہتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام کالا باغ پڑا یہ علاقہ پہلے خیبر پختوں کا حصہ تھا اب بھی ڈیم کی زمیں دو صوبون میں ہے کے پی کے اور پنجاب میں
ایوب خان کے دورے حکومت میں موجودہ پاکستان کا گورنر نواب اف کالا باغ ملک امیر محمد خان اسی علاقہ کے نواب تھے
1953 میں اس ڈیم کا جگہ چنا گیا
1960 میں سندھ طاس معاہدے کے تحد تعمیراتی کام کا بھارت سے اجازت لیا گیا اجازت کے بدلے میں بھارت کو تین دریا بیچ دے گئے دریا ستلج دریا بیاس دریا راوی
مہز آٹھ کروڑ روپے میں
بھٹو کے دورے حکومت میں ڈیم بنانے کے لیے مشینگری مگوایا گیا پھر داخلی اور خارجی مسلو کی وجہ سے کام آگے نہ بڑھ سکا بل اخیر 1984 میں جرنل ضیا الحق نے اس کا آغاز کیا اور برطانیہ کے سروے ٹیم کو اس کام پر لگا دیا ماہرین کے سروے ٹیم کو جب پتا چلا کے 1929 میں آنے والے سیلاب میں پشاور اور چار سدا ڈوب گئے تو ان کا توجہ اس طرف چلا گیا اخیر ماہرین نے یہ طے کیا کہ ڈیم سے کے پی کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے خاص طور پر مردان شھر کو جو دریا سے کچھ ہی اوچای پر ہے پھر ہے اسی وجہ سے صوبہ سرحد نے اس کی شدید مخالفت کی سب سے پہلے جس سیاسی جماعت نے مخالفت کی وہ ہے اے این پی اور ساتھ ہی سندھ نے بھی اس پر خشک سالی کے پیش نظر اور سمندر میں پانی نہ جانے کی وجہ سے ساحل سمندر کی زمیں سمندر بوس ہونے کی وجہ سے مخالفت کی خیر ضیاء کی اتنے میں موت ہو گئی پھر مشرف نے اس پر کام آگے چلانے کا علان کیا مگر شدید سیاسی دباؤ کے پیش نظر اس نے یہ طے کیا کہ سندھ اور کے پی کے کو راضی کر کے ڈیم بنائے گے اور مشرف صاحب نے اسی پر جام شورو ینورسٹی میں لیکچر دیا وہاں کے طلبہ نے اعترض کرتے ہوئے کہا کہ پجاب نے پہلے ہی جناح تونسہ چشمہ بیراج کے ذریے 55 ہزار قیوسق پانی موڑ رکھا ہے کالا باغ ڈیم بنا تو پجاب مزید پانی موڑ لے گا اور سندھ خشک سالی کی وجہ سے تباہ ہو جائے گا
اب یہ ڈیم چارو صوبون کے باہمی رضامندی سے مشروط ہے
تحریر نثار بلوچ
HD
Thursday, 31 May 2018
کالا باغ ڈیم میاوالی سے بیس میل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment