HD

Thursday, 31 May 2018

کالا باغ ڈیم میاوالی سے بیس میل

کالا باغ ڈیم
میاوالی سے بیس میل دور قصبہ کالا باغ  یہ علاقہ   پجاب کے شمال مغرب کے طرف ہے  پاکستان بننے سے پہلے اس مقام پر کیلاے کے بیشمار باغ تھے دور سے یہ  باغ سیاہ بادل نظر اتے تھے اس لیے لوگ اسے کالا باغ کہتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام کالا باغ پڑا یہ علاقہ پہلے خیبر پختوں کا حصہ تھا اب بھی ڈیم کی زمیں دو صوبون میں ہے کے پی کے اور پنجاب  میں
ایوب خان کے دورے حکومت میں موجودہ پاکستان کا گورنر نواب اف کالا باغ ملک امیر محمد خان اسی علاقہ  کے نواب  تھے
1953 میں اس ڈیم کا جگہ چنا  گیا
1960 میں سندھ طاس معاہدے کے تحد تعمیراتی کام کا بھارت سے اجازت لیا گیا اجازت کے بدلے میں بھارت کو تین دریا بیچ دے گئے دریا  ستلج  دریا  بیاس دریا  راوی
مہز آٹھ کروڑ روپے میں
بھٹو کے دورے حکومت میں ڈیم بنانے کے لیے مشینگری مگوایا گیا پھر داخلی اور خارجی مسلو کی وجہ سے کام آگے   نہ بڑھ سکا بل اخیر 1984 میں جرنل ضیا الحق نے اس کا آغاز کیا اور برطانیہ کے سروے ٹیم کو اس کام پر لگا دیا ماہرین کے سروے ٹیم کو جب پتا چلا کے 1929 میں آنے  والے سیلاب میں پشاور اور چار سدا ڈوب گئے تو ان کا توجہ اس طرف چلا گیا اخیر ماہرین نے یہ طے کیا کہ ڈیم سے کے پی کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے خاص طور پر مردان شھر کو جو دریا  سے کچھ ہی اوچای  پر ہے پھر ہے   اسی وجہ سے صوبہ سرحد نے اس کی شدید مخالفت کی سب سے پہلے جس سیاسی جماعت نے مخالفت کی وہ ہے اے این پی  اور ساتھ ہی سندھ نے بھی اس پر خشک سالی کے پیش  نظر اور سمندر میں پانی نہ جانے کی وجہ سے ساحل سمندر  کی زمیں سمندر بوس ہونے کی وجہ سے  مخالفت کی خیر ضیاء کی اتنے میں موت ہو گئی پھر مشرف نے اس پر کام آگے  چلانے کا علان کیا مگر شدید سیاسی دباؤ کے پیش نظر اس نے یہ طے کیا کہ سندھ اور کے پی کے کو راضی کر کے ڈیم بنائے گے اور مشرف صاحب نے اسی پر جام شورو ینورسٹی میں لیکچر دیا وہاں  کے طلبہ نے اعترض کرتے ہوئے کہا کہ پجاب نے پہلے ہی جناح تونسہ چشمہ بیراج کے ذریے  55 ہزار قیوسق پانی موڑ رکھا ہے کالا باغ ڈیم بنا تو پجاب  مزید پانی موڑ لے گا اور سندھ خشک سالی کی وجہ سے تباہ ہو جائے گا
اب یہ ڈیم چارو صوبون کے باہمی رضامندی  سے مشروط ہے
تحریر نثار بلوچ

No comments:

Post a Comment