HD

Wednesday, 30 May 2018

کالا باغ ڈیم ضرورت و اہمیت

کالا باغ ڈیم ضرورت و اہمیت

کالا باغ ڈیم بن جاتا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نظر آتا پاکستان کا کسان خوشحال ہوتا جن قوتوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی دراصل وہ کسان پاکستان کی خوشحالی کے مخالف تھے کالا باغ ڈیم قیام پاکستان سے قبل کا منصوبہ تھا برٹش گورنمنٹ نے 1873 میں ڈیم بنانے کیلئے سروے کیا کہ کوہاٹ، نوشہرہ، اٹک کے درمیان کا علاقہ قدرتی طور پر ڈیم بنانے کیلئے بنایا گیا بجٹ مختص ہوا مگر یہ منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا قیام پاکستان کے بعد فروری 1948ء میں میانوالی کے مقام پر ہیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیا بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر دیا پاکستان ورلڈ بنک اس مسئلے کو لے گیا بھارت پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ طے پایا ایوب خان نے پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری سمجھا مگر ایوب دور میں یہ کام صرف کاغذوں تک محدود رہا جنرل ضیاء الحق کے دور میں کالا باغ ڈیم پر کچھ عملی کام ہوا ڈیموں کے ماہر ڈاکٹر کنیڈی کمیٹی بنائی گئی جو کالا باغ ڈیم کے نقصانات اور فوائد مرتب کرکے حکومت کو رپورٹ دے گی 1983میں ڈاکٹر کنیڈی کمیٹی نے رپورٹ مرتب کی کہ یہ ڈیم 120ایکڑ رقبے پر تعمیر ہو گا 925فٹ اس کی ہائیٹ ہو گی 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اس کی تعمیر میں زیادہ سے زیادہ 5سال اور کم سے کم 3سال کا عرصہ درکار ہو گا اور یہ پورے ملک کے 50لاکھ ایکڑ رقبے کو سیراب کریگا 8بلین ڈالر اس کی تعمیر پر خرچ ہوں گے 5000میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار حاصل کی جاسکے گی ۔ضیا الحق نے اس کی تعمیر کیلئے سنجیدگی سے غور کیا کالا باغ کی تعمیر کیلئے دفاتر تعمیر کئے گئے روڈ بنائے گئے مشینری منگوائی گئی جنرل فضل حق جو صوبہ سرحد کے گورنر تھے اور حاضر سروس جنرل بھی تھے نے اعتراض اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم کے موجودہ ڈیزائن سے نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا اس عذر کو دور کرنے کیلئے ڈیزائن میں تبدیلی لائی گئی ڈیم کی اونچائی925سے915 فٹ کر دی گئی سندھ کی سول سوسائٹی نے سوال اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی غصب کر لے گا یہ منصوبہ سندھ کی عوام کو منظور نہیں ہے سندھ کے عوام کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے چاروں صوبوں کو پانی کی تقسیم کے ایک فارمولے پر راضی کیا گیا اس معاہدے اور فارمولے کے مطابق پنجاب 37فیصد سندھ33فیصد سرحد14فیصد اور بلوچستان 12فیصد دریائی پانی لینے پر راضی ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ضیاء الحق کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور بھی نہیں کیا ہر سال بارشوں، برف پگھلنے سیلاب کی صورت میں کروڑوں کیوسک پانی سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے سیلاب کی شکل میں فصلات کا الگ نقصان ہوتا ہے اس وقت پانی کی شدید قلت ہے جنوبی پنجاب کی نہریں سوکھ چکی ہیں آئے روز کسان احتجاج کررہے ہیں محکمہ انہار کے دفاتر کے سامنے دھرنے دیئے جارہے ہیں محکمہ کے افسران کے علامتی جنازے تک اٹھائے جارہے ہیں جب کسانوںکی فصلیں سوکھ جائیں گی تب کسان جنگ لڑنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے پانی کی شدید قلت سے نہریں خالی ہیں تمام صوبوں کو پانی پورا نہیں ہورہا کسان طبقہ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر اس کی نہر بند ہو گئی ہے یہ طبقہ اب منظم ہورہا ہے اپنے حقوق کے لئے لاہور، اسلام آباد تک احتجاج ریکارڈ کرانے پہنچ جاتا ہے یہ جب بڑی تعداد میں منظم ہو کر پانی کے حصول کے لئے نکلا حکمرانوں کے ایوان ہل جائیں گے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو چاہئے کہ وہ کالا باغ ڈیم اور دیگر چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے اتفاق رائے پیدا کریں نوشہرہ کے عوام کے تحفظات دور کئے جائیں سندھ کے لئے اضافی پانی کا بندوبست کیا جائے تاکہ ملک کی ترقی کا منصوبہ سیاست بازی کی نذر نہ ہوجائے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اربوں کے بجٹ کا اعلان کریں اربوں روپے میٹرو ٹرین میٹروبسیں چلانے پر خرچ کئے جارہے ہیں جن سے صرف چند شہروں کے مکین مستفیض ہورہے ہیں جس منصوبے سے ملک کی خوشحالی مضمر ہے اس پر توجہ نہ دینا ناانصافی ہے پاکستان کی نہری زمینیں فی ایکڑ3لاکھ روپے کی سالانہ پیداوار دیتی ہیں 50لاکھ ایکڑ رقبہ کالا باغ ڈیم سے سیراب ہو گا اس پیداوار سے پاکستان اربوں روپیہ زرمبادلہ کما سکتا ہے پاکستان کے تمام قرضے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے دس سال بعد ختم ہوسکتے ہیں

No comments:

Post a Comment