HD

Friday, 16 February 2018

داستان ایک ملت فروش کی.

داستان ایک ملت فروش کی.
ان حضرت سے ملیے جنکا نام ڈاکٹر پرویزہودبھائی ہے، پیشہ کے لحاظ سے موصوف ایک جوہری سائنسدان ہیں جنھیں پاکستان کے جوہری پروگرام سے انکی ملک سے وفاداری پر اعتراضات کی وجہ سے باہر رکھا گیا تھا. لگتا ہے موصوف نے بات دل پر ہی لے لی اور تمام زندگی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت میں گزاردی. حال میں ہی بھارت میں جا کر پاکستانیوں کو جوتے مار کر خوب دل ٹھنڈا کیا. بھارت میں منعقدہ حیدرآباد لیٹریچر فیسٹیول میں بھارتی سامعین کے موجودگی میں قیام پاکستان کو ایک ناقابل بیان المیہ کہہ ڈالا، جب داد وصول ہونا شروع ہوئی تو موصوف کو کچھ اور ہوشیاری ملی اور ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ قائد آعظم ایک لاعلم اور کنفیوز انسان تھے کیوں کہ انھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ ملک دینے کی تحریک چلائی, موصوف اس بات کو شاید بھول گئے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی کے لئے ١٩٤٦ کے انتخابات میں مسلم لیگ کو دل کھول کر ووٹ دیا اور مسلم لیگ جمہوری طریقہ
سے ٤٧٦میں سے ٤٢٥ نشستیں لے کر کامیاب ہوئی تھی.
ھود بھائی ہمیشہ سے اسلامی جمہوری نظام اور اسلامی ریاست کے سخت خلاف اور لادینیت پرست نظام کے داعی رہے ہیں مگر انکی مخالفت صرف اسلام تک محدود ہے، آپ کبھی اس شخص کو اسرائیل اور بھارت کی مخالفت کرتے نہیں دیکھیں گے کیوںکہ وہاں روٹی لگی ہوئی ہے، چناچہ ہود بھائی نے اپنے بچپن میں کراچی میں موجود شراب کی دکانوں کو فخریہ انداز میں پیش کرتےہوے ارشاد کیا کہ پاکستان سے اسلام کو نظام حکومت سے نکلنا پڑےگا. اس شخص کی منافقت پر ہنسا جائے یا رویا جائے، کیوں کہ یہ ارشاد نہ صرف اس نے اس شہر میں جاری کیا جہاں ١٩٤٨ میں ٤٥٠٠٠ ہزار بے گناہ مسلمانوں کو نہرو کے نام نہاد حیدرآباد پولیس ایکشن میں تہ تیغ کیا گیا بلکہ ایک ایسے ملک میں کہا جسکا وزیر آعظم گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کروا کر انھیں اپنی گاڑی کے نیچے آ کر مرنے والے کتے کے بچے سے تشبیہ دے کر صرف ہندو ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوا، جو بھارت کو ہندوتوا ریاست بنا رہا ہے.
نہیں ھود بھائی نہیں، قیام پاکستان ایک المیہ نہیں تھا، مگرتمہاری جہالت اور ملک دشمنی ضرور ایک المیہ ہے، قائد اعظم لاعلم اور کنفیوز نہیں تھے..مگر تمہارا گھٹیا وجود ضرور کنفیوزن کا نتیجہ ہے، اسلام پاکستانی ریاست کا حصہ رہیگا، ہاں مگر تم اور تمہارے جیسے ملت فروش نہیں رہیں گے.

No comments:

Post a Comment