HD

Saturday, 24 February 2018

ایک بار ایک بادشاہ جوانوں کے لنگر خانے گیا


ایک بار ایک بادشاہ جوانوں کے لنگر خانے گیا . صفائی ستھرائی چیک کی درست تھی . پھر اس نے پوچھا کہ جوانوں کے لیے کیا پکایا ہے ؟
جواب ملا بتاؤں یعنی بیگن .
بادشاہ سخت ناراض ہوا کہ جوانوں کے لیے اتنا گھٹیا کھانا کیوں پکایا گیا ہے ؟
اس کے مشیر نے بیگن کی بد تعریفی میں زمین آسمان ایک کر دیے . بہر کیف لنگر کمانڈر نے معذرت کی اور آئندہ سے بیگن نہ پکانے اور
اچھا کھانا پکانے کا وعدہ کیا تو بادشاہ لنگر خانے سے رخصت ہو گیا .
کچھ وقت گزرنے کے بعد بادشاہ کو دوبارہ سے جوانوں کے لنگر خانے جانے کا اتفاق ہوا . سوئے اتفاق اس روز بھی بیگن پکائے گئے تھے . بادشاہ نے بیگن کی تعریف کی . وہ ہی مشیر ساتھ تھا ، اس نے بیگن کی تعریف میں ممکنہ سے بھی آگے بیگن کے فوائد بیان کر دیے . گویا بیگن کے توڑ کی کوئی سبزی اور پکوان باقی نہ رہے . لنگر کمانڈر خوش ہوا اور آگے سے بیگن کے برابر اور متواتر پکائے جانے کا وعدہ کیا .
بادشاہ اس مشیر کی جانب مڑا اور کہنے لگا کہ اس دن میں نے بیگن کی بد تعریفی کی تو تم نے بیگن کی بدتعریفی میں کوئی کسر نہ چھوڑی . آج جب کہ میں نے تعریف کی ہے تو تم نے بیگن کی تعریف میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ؟ کیوں .
اس نے جوابا کہا حضور میں آپ کا غلام ہوں بیگن کا نہیں .
یہ سن کر بادشاہ نے کہا تم سے جی حضوریے حق اور سچ کو سامنے نہیں آنے دیتے ، جس کے سبب صاحب اقتدار متکبر ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان سے انصاف نہیں ہو پاتا . انصاف کا قتل ہی قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے .
پہلے تو وہ جی حضوریہ چپ رہا پھر کہنے لگا حضور جان کی امان پاؤں تو ایک عرض کروں .
بادشاہ نے کہا : کہو کیا کہنا چاہتے ہو ؟
حضور سچ اور حق کی کہنے والے ہمیشہ جان سے گئے ہیں .
بادشاہ نے کہا : یاد رکھو سچ اور حق جان سے بڑھ کر قیمتی ہیں . مرنا تو ایک روز ہے ہی ، سچ کہتے مرو گے تو باقی رہو گے . ہاں جھوٹ کہنے یا اس پر درست کی مہر ثبت کرنے کی صورت میں بھی زندہ رہو گے ، لیکن لعنت اور پھٹکار اس زندگی کا مقدر بنی رہے گی ..

No comments:

Post a Comment