کارگل کی جنگ کے دوران ایک وقت وہ بھی آگیا تھا جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف دشمن کی سرحد پار کرکے نہ صرف اس چوٹی پر پہنچ گئے تھے جسے پاک فوج نے فتح کرلیا تھا.""
بلکہ ایک رات وہاں قیام کرکے اگلے دن عید قرباں کی نماز بھی وہیں ادا کی۔عسکری تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ جب کسی فوج کے سربراہ نے جنگ کے دوران ہر طرح کی احتیاط بالائے طاق رکھ دی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کا دوران جنگ دشمن کے علاقے میں ہیلی کاپٹر پر پہنچ جانا ایک غیر معمولی واقعہ تھا..""
جس نے کارگل کے محاذ کو گرما کر رکھ دیا تھا ۔’’ٹھیک دو دنوں بعد 28مارچ 1999ء کو صبح دس بجے گلتری میں ایک ہیلی کاپٹر اترا اور اس سے برآمد ہونے والا پہلا شخص تھا ..""
چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف۔ ان کے ساتھ دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود، چیف آف جنرل سٹاف محمد عزیز خان۔ کمانڈر ایف سی این اے ہیڈکوارٹر کے ایک سٹاف آفیسر۔ 80 بریگیڈ کے کمانڈر اور بریگیڈیئر مسعودع اسلم نے ان کا اسقبال کیا۔..
No comments:
Post a Comment