HD

Friday, 17 April 2026

جرم دستک دیتا ہے۔خبردار کرتا ہے۔ لیکن انسان اس خطرے کو بھانپ کر بھی انجانا بننے کا ناٹک کرتا ہے

#بیوی_کے_ہاتھوں_شوہر_کا_خاتمہ

جرم دستک دیتا ہے۔خبردار کرتا ہے۔ لیکن انسان اس خطرے کو بھانپ کر بھی انجانا بننے کا ناٹک کرتا ہے۔
بس یہی کچھ 5C-1 میں بیوی کے ہاتھوں مرنے والے ریحان کیساتھ بھی ہوا...
صدف اپنے پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی... 13/14سال پہلے فیصل نامی شخص سے ارینج میرج ہوئی دو ایک بچہ ہوا شادی کے دو سال کے اندر ہی فیصل سے مبلغ 50لاکھ روپے عوض صدف کی خلاصی ہوئی...
تقریبا دس سال تک صدف اپنے ماں باپ کے گھر رہی... اور چار ساڑھے سال سے ریحان نامی شخص سے اسکا افئیر تھا... ریحان پر صدف کا سحر اسقدر طاری تھا کہ وہ حقیقت سے انکاری تھا۔
ظاہر ہی لڑکی طلاق یافتہ ہو تو اسکے جذبات خواہشات کو پورا کرنے والا کوئی ہونا ہی چاہئے... ریحان کے ماں باپ نے ریحان کی کہی اور منگنی بھی کی مگر صدف کے سحر نے وہ رشتہ ختم کروا ہی دیا...
آخرکار آج سے ٹھیک پانچ مہینے قبل ریحان نے صدف سے شادی کی اور اسے گھر لے آیا...
ادھر صدف شادی سے پہلے ہی شیزان عرف سجو نامی شخص سے بھی رابطے روا رکھے ہوئے تھی...
سجو کا بے وقت کال کرنا صدف کا ناخوش رہنا گم سم رہنا ریحان نے اپنے گھر لانے کیبعد ہی نوٹ کیا...

صدف ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی لہذا اس نے ریحان کا بیجا پابند کرنا ، شک کرنا گوارہ نہ کیا اور سیدھا ماں کے پاس جاکر ریحان سے علیحدگی کا اظہار کیا...
ماں نے کہا کہ اگر تو نے پھر طلاق لی تو پوری برادری تُھو تُھو کرے گی... لہذا ایسا کر کہ اپنے عاشق شیزان کو بلا اور اسکے ذریعے اپنا راستہ صاف کر...
صدف نے شیزان عرف سجو کو ایک اسٹیٹ پر بلوایا اور وہی یہ طے ہوا کہ سجو جو کہ بظاہر اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تھا... اپنے بھائی کا لائسنس یافتہ پسٹل (جو کہ عمرے کے سفر پر ہے) اٹھایا
اور صدف کے بھائی جبران کیساتھ موقعے کا انتظار کرنے لگا...

ادھر صدف نے بھی جمعے کی صبح ریحان کو مسجد جانے کی تیاری کرتا دیکھ کر شیزان کو اشارہ دے دیا...
ریحان اور جبران نے ق ت ل کیا اور فرار ہوگئے۔

پولیس تفشیش شروع ہوئی تو پولیس کو صدف کی باڈی لینگویج سے ہی صدف پر شک ہوگیا تھا...ظاہر ہے مسجد کی بائیں جانب ہی ریحان کا گھر تھا... ریحان کی باڈی مسجد کی دہلیز پر پڑی ہے۔
ریحان کے بھائی بہن ریحان کی لاش کے پاس صدمے کی سی کیفیت میں تھے... مگر صدف گھر سے ٹس سے مس نہ ہوئی... پھر صدف کے گھر والو میں سے بھی کسی نے جنازے میں شرکت نہ کی... پولیس تفشیش میں صدف کے موبائل-فون میں شیزان کی کال ٹریس ہوئی تو اسنے تین دن بعد بھی وہی وقوعے میں پہنے کپڑے تک نہیں بدلے تھے... یہاں تک کے چہرے کو چھپانے والا ماسک تک اسکی جیب میں ہی موجود تھا۔

ریحان کو جرم کی دستک تب ہی ہوچکی تھی جب ریحان کی کہی اور منگنی ہوئی اور اسے صدف نے توڑنے کا کہا...
جرم کی دستک تبھی ہوچکی تھی جب لیٹ نائٹ صدف شیزان سے کالز پر باتیں کیا کرتی...
جرم کی دستک کو ریحان بآسانی سمجھ لیتا... جب دوران افئیر ہی صدف کے اور لڑکوں سے بھی روابط تھے۔

ریحان تو اس دُنیا سے چلا گیا مگر عقل کے اندھوں کو بتلاگیا ہے۔عورت کا چکر بابو بھیا اچھے اچھوں کی زندگی برباد کردیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment