ضلع جامشورو کے کھوسہ گاؤں میں اپنی فیملی کے
ساتھ مقیم صابرہ نامی خاتون کا زیادتی کے بعد بے دردی
سے قتل کیا جانا بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے
مقتولہ صابرہ خاتون تین بچوں کی ماں تھی جو اپنے
بچوں کی گزر بسر کے لیے محلہ کے گھروں میں
کپڑے فروخت کرتی تھی مگر علاقے کے وحشی درندوں کی
درندگی کا شکار ہو گئی۔ مظلوم خاتون کے
ہاں ایک اور بچے کی ولادت بھی ہونے والی تھی۔

صابرہ کی مظلومیت پر خاموشی
درحقیقت ظالموں کا ساتھ دینے کے برابر ہے
یہ گھناؤنا ظلم کرنے والے کوئی بھی زبان بولتے ہوں
یا ظلم کرنے والے کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں
انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔
غیرت مند معاشرے میں خواتین کی عزت مشترکہ ہوتی ہے لہٰذا تمام غیور اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔ سندھی بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ حوا کی کمزور بیٹی کے قاتلوں ، اوباش اور سفاک ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے متاثرہ خاندان کی مدد کریں۔
سندھ حکومت سے مطالبہ ہے کہ قتل کے مرتکب ایف آئی آر میں نامزد پانچ نامزد وحشی درندوں کو گرفتار کرکے ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔
No comments:
Post a Comment