میں آپ کے سامنے ایک ایسے لیڈر کی بات کرنے آیا ہوں... ایک ایسے شخص کی، جسے اللہ نے وجاہت دی، جسے اللہ نے جرات دی، جسے اللہ نے سچائی دی۔
ہاں! وہ دوسروں سے مختلف تھا۔ اُس کا انداز جدا تھا۔ اُس کا چلنا، اُس کا بولنا، اُس کی سوچ... سب منفرد تھی۔ ہالی ووڈ کی بڑی بڑی خواتین... جی ہاں! وہ خواتین جن کے پاس نواز شریف اور زرداری جیسے لوگ آٹوگراف کے لیے کھڑے رہتے... اُن کا کرش کون تھا؟ وہی شخص!

میرے بھائیو! جب وہ اپنے کیریئر کی بلندی پر تھا تو پارٹیاں کرتا تھا، شراب پیتا تھا، دوستیاں بناتا تھا... لیکن سنو! اس سب کے باوجود... اُس نے اسلام کا دفاع کیا۔ اُس نے خود کہا تھا:
"میں اسلام سے دور تھا، لیکن میرے اللہ نے مجھے کبھی اسلام چھوڑنے نہیں دیا۔"
بھائیو! پھر اُس کی زندگی میں ایک یہودی عورت آئی۔ یاد رکھو! یہودی بہت مشکل سے مسلمان ہوتے ہیں۔ لیکن اُس عورت نے اسلام قبول کیا۔ یہ اُس کی سچائی کی طاقت تھی، اُس کی محبت کی جیت تھی۔
لیکن افسوس! منافق طاقتوں نے اُسے سکون سے جینے نہ دیا۔ ریاست کے ٹھیکےدار اُس کے پیچھے پڑ گئے۔ کبھی اُسے زانی کہا گیا، کبھی لونڈے باز کہا گیا۔ اُس کے خلاف گھٹیا پروپیگنڈا کیا گیا۔ یہاں تک کہ ایک چکلے کی طوائف زادی سے اُس کے خلاف کتاب تک لکھوا دی گئی۔

لیکن بھائیو اور بہنو! عوام اُس سے محبت کرتے ہیں! پورا ملک اُس کے ساتھ کھڑا ہے!
اور وہ شخص... کوئی اور نہیں... وہ عظیم لیڈر ہے:
عمران خان نیازی
یہ وہ انسان ہے، جس نے اپنے ماضی کا کبھی انکار نہیں کیا! یہ وہ شخص ہے جس نے کبھی کسی کے آگے سر نہیں جھکایا! قسم خدا کی! عمران خان جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں
سن لو! یہ عاصم منیر ہوں، یہ نواز شریف ہوں، یہ باجوہ ہوں... یہ سب آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہر تین سال بعد چہرے بدل جاتے ہیں۔ لیکن!
عمران خان ایک حقیقت ہے!
یہ جو ڈر کے آگے جھک گیا... وہ لیڈر نہیں! وہ لیڈر نہیں
میں اسلامی نظام کا حامی ہوں، لیکن یہ مانتا ہوں کہ عمران خان بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ اور یہ حقیقت کبھی مٹائی نہیں جا سکتی!
ہم عمران خان سے اختلاف کر سکتے ہیں — سیاسی، نظریاتی یا حکومتی فیصلوں پر۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کے ماضی کو طنز کا نشانہ بنائیں یا اس کی شخصیت کو گالیاں دیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ چور نہیں ہے، اور شاید اس کا مزاج پاکستان جیسے غریب ملکوں کو لوٹنے کا نہ ہو — یہ الزام لگانا آسان بات نہیں۔ ایسے لوگوں کو ووٹ دینا روکیں اگر آپ ان کے نظریات سے متفق نہیں، مگر انسانیت اور شرافت سے ہاتھ نہ کھینچیں۔ بیہودہ زبان اور گالی گلوچ ہماری سیاست کو ریفائن نہیں کرے گی — اس سے ہمیں فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا
No comments:
Post a Comment