میری نوعمری کی ایک یاد کلر کہار سے جڑی ہے۔

جب کلر کہار گلاب لوکاٹ اور موروں کے حوالے سے مشہور تھا۔ موسم بہار میں کلر کہار کا قصبہ نزدیک آتے ہی گلابوں کی خوشبو چار سو محسوس ہوتی تھی۔ یہاں گلاب کے بے شمار باغات تھے۔ مین روڈ سے بائیں طرف جھیل کے کچے راستے پر جانے والے موڑ پر عرق گلاب کی دوکانیں تھیں۔
گلقند بھی ملتا تھا۔ تازہ رسیلے لوکاٹ کے ٹھیلے بھی ہوا کرتے تھے۔ کچے راستے کے بائیں طرف جھیل کا نظارہ ہوتا تھا اور اختتام پر پی ڈبلیو ڈی کا ریسٹ ہاؤس تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے باہر ایک پتھر پر مصطفیٰ زیدی کا شعر کندہ تھا
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مصطفٰی زیدی کو یہ ریسٹ ہاؤس بہت پسند تھا اور وہ اکثر یہاں قیام کرتے تھے۔ ریسٹ ہاؤس کے اردگرد لوکاٹ اور انگور کے باغات تھے جو قدرتی چشمے کے پانی سے سیراب ہوتے تھے۔
ریسٹ ہاؤس سے ایک راستہ / ٹریک تھا جو اوپر دربار غوثیہ تک جاتا تھا۔ دربار غوثیہ شیخ عبدلقادر جیلانی رحمتہ اللہ کے دو شہید پوتوں جناب شیخ یعقوب اور جناب شیخ اسحاق کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس مزار کے احاطے میں عصر کے بعد جب سائے لمبے ہونے لگتے تھے تو موروں کی آمد ہوتی تھی جو دن بھر جنگلوں اور چراگاہوں میں ہوتے تھے۔
کہا جاتا تھا کہ شام کو مور یہاں جمع ہوتے ہیں اور عالم وجد میں رقص کرتے ہیں۔
ایک بار دربار کے احاطے میں موروں کا رقص ہم نے بشم خود دیکھا ہے۔
ضلع چکوال کا قصبہ کلر کہار اسلام آباد سے تقریباً 135 کلومیٹر دور ہے ایم ٹو موٹر وے سے جائیں تو ڈیڑھ گھنٹہ اور روات مندرہ چکوال روڈ
سے جائیں تو دو گھنٹے میں کلر کہا ر پہنچ جاتے ہیں۔
کلر کہار پہلی بار مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے دریافت کیا جب وہ کابل سے دہلی جا رہا تھا۔ باہر کو یہاں کی آب وہوا سبزہ اور جھیل بہت پسند ائی تھی۔
اسلام آباد موٹر وے نے ہم سے یہ رومان بھرا قصبہ چھڑا دیا۔ اب وہاں جدید طرز کی سیر گاہ ہے رونق ہے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔
گلاب کی خوشبو اور مور بھی شائد ہوں لیکن وہ تنہائی نہیں جو کلام کرتی تھی وہ فسوں نہیں جو کبھی تھا۔
یہ پکچر دربار غوثیہ کے احاطے میں لی گئی تھی جب شام ہونے کو تھی اور موروں کے آنے کا انتظار ہو رہا تھا۔ ( تحریر و تصویر یاسمین شوکت )
کلر کہار 1986
No comments:
Post a Comment