بابِ حیرت سے مجھے اِذنِ سفر ہونے کو ہے
تہنیت اے دل، کہ اب دیوار در ہونے کو ہے
کھول دیں زنجیر در، حوض کو خالی کریں
زندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے
موت کی آہٹ سُنائی دے رہی ہے دل کو کیوں
کیا محبّت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
گردِ رہ بن کر کوئی حاصل سفر کا ہوگیا
خاک میں مِل کر کوئی لعل و گُہر ہونے کو ہے
اِک چمک سی تو نظر آئی ہے اپنی خاک میں !
مجھ پہ بھی، شاید توجّہ کی نظر ہونے کو ہے
گُمشدہ بستی مُسافر لوٹ کر آتے نہیں
معجزہ ایسا مگر، بارِ دِگر ہونے کو ہے
رونقِ بازارِ محفِل کم نہیں ہے آج بھی
سانحہ اِس شہر میں، کوئی مگر ہونے کو ہے
گھر کا سارا راستہ، اِس سرخوشی میں کٹ گیا !
اِس سے اگلے موڑ کوئی ہمسفر ہونے کو ہے
پروین شاکر

ہزار صدقے اتاریں اس ایک منظر کے
غزال اپنی غزل دیکھتا ہے جی بھر کے
خدائے امن و محبت ، زمیں کی جانب دیکھ
حیات کاٹ چکے لوگ تجھ سے ڈر ڈر کے
یہ دکھ نہیں ہے تو کیا ہے مرے قیافہ شناس
صدائیں نکلی ہیں میرے گلے سے بھر بھر کے
یہ کائنات نجانے ہے منتظر کس کی
لوازمات تو پورے ہیں روزِ محشر کے
وہ ندّیاں جو لبالب کبھی نہیں بھرتی
میں تھک گیا ہوں ان آنکھوں میں اشک بھر بھر کے
بہت اندھیرا ہے ، لایعنیت ہے اور غم ہے
تری کمر سے کمر بند ہی ذرا سرکے
خیال کرنا کہانی کو موڑ دیتے ہوئے
اچانک اشک نکلنے لگیں نہ پتھر کے
تغارچوں میں پڑی خاک مسکراتی ہے
کھڑا ہے آج براہیم آگے آذر کے
عاجز کمال رانا
ہے ترا گال مال بوسے کا
کیوں نہ کیجے سوال بوسے کا
منہ لگاتے ہی ہونٹھ پر تیرے
پڑ گیا نقش لال بوسے کا
زلف کہتی ہے اس کے مکھڑے پر
ہم نے مارا ہے جال بوسے کا
صبح رخسار اس کے نیلے تھے
شب جو گزرا خیال بوسے کا
انکھڑیاں سرخ ہو گئیں چٹ سے
دیکھ لیجے کمال بوسے کا
جان نکلے ہے اور میاں دے ڈال
آج وعدہ نہ ٹال بوسے کا
گالیاں آپ شوق سے دیجے
رفع کیجے ملال بوسے کا
ہے یہ تازہ شگوفہ اور سنو
پھول لایا نہال بوسے کا
عکس سے آئنے میں کہتا ہے
کھینچ کر انفعال بوسے کا
برگ گل سے جو چیز نازک ہے
واں کہاں احتمال بوسے کا
دیکھ انشاؔ نے کیا کیا ہے قہر
متحمل یہ گال بوسے کا
انشاءؔ اللہ خاں
No comments:
Post a Comment