HD

Saturday, 14 January 2023

یہ بات تو بلکل درست ہے ہر بندہ اپنا اپنا کام کرتا ہے

جس کا کام اسی کو ساجھے 🥰🥰🥰

یہ بات تو بلکل درست ہے ہر بندہ اپنا اپنا کام کرتا ہے لیکن جب شرعی مسئلہ کی بات آتی ہے تو اس معاملے میں وہ بندہ بھی بولتا ہے جسے یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ استنجاء کرنا سنت ہے ،، فرض ہے یا واجب ہے ؟؟؟
حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں پر۔۔۔۔۔
آج فیس بک پہ بیوی کا مردہ شوہر کو غسل دینے کے حوالے سے ایک سوال دیکھا تو نیچے کمینٹ پڑھ کر بہت دکھ ہوا ،، کوئی کہ رہا تھا کہ میری عقل کے مطابق حکم اس طرح ہوگا.
Published from Blogger Prime Android App
 (( بندہ پوچھے جناب کیا آپ پیدائشی مفتی ہیں یا آپ کو یہ سب کچھ عالم ارواح میں سکھا دیا گیا تھا جو آپ اپنی عقل کے بھروسے پہ شرعی حکم اخذ کررہے ہیں 😏😏😏 )) کوئی کچھ کہ رہا تھا کوئی کچھ کہ رہا تھا الغرض ہر بندہ اپنی اپنی رائے دے رہا تھا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "" جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا اس پہ زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں "" 
                      (( اعلام الموقعین )) 
اصل مسئلہ یہ ہے ::: 
عورت فوت ہوجائے تو شوہر بلا حائل اپنی بیوی کو نہیں چھو سکتا (( یعنی شوہر کے ہاتھ اور عورت کے جسم کے درمیان کوئی نہ کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہونا چاہیے )) کیونکہ عورت فوت ہوجائے تو نکاح فورا ختم ہو جاتا ہے لیکن اپنی بیوی کی چارپائی کو کندھا بھی دے سکتا ہے اور اس کو قبر میں بھی اتار سکتا ہے ،،

 جبکہ شوہر کے فوت ہونے سے نکاح فورا نہیں ٹوٹتا اسی لیے عورت عدت گزارتی ہے اگر شوہر کے مرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا تو عورت عدت کیوں گزارتی ؟؟؟ نکاح کے نہ ٹوٹنے کی وجہ سے عورت اپنے مردہ شوہر کو غسل دے سکتی ہے جیسا کہ در مختار اور فتاویٰ شامی وغیرہ میں لکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔

اگر کوئی اعتراض کرے کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے تو حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو غسل دیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم صرف ان کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو بندوں کے برابر تھی اور یہ حکم صرف حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment