HD

Monday, 23 January 2023

دست دامن دعا رہے نہ رہے  ہم چلے اب وفا رہے نہ رہے  میں فنا کی ڈگر پہ ہوں یارو  اب کسی کی سزا رہے نہ رہے

اصلی نام : سمیرا انجم
قلمی نام:'مریم ناز
پیدائش:22جنوری 1988ء
          بہاول پور، پاکستان
Published from Blogger Prime Android App
غزل
۔۔۔۔۔۔
دست دامن دعا رہے نہ رہے 
ہم چلے اب وفا رہے نہ رہے 
میں فنا کی ڈگر پہ ہوں یارو 
اب کسی کی سزا رہے نہ رہے 
آئنے تم تو میرے ساتھ رہو 
مجھ میں چاہے ادا رہے نہ رہے 
جلنا قسمت میں ہے تو جلنا ہے 
چھت پہ کوئی گھٹا رہے نہ رہے 
پاؤں ننگے ہیں ہر تمنا کے 
سر پہ اب کے ردا رہے نہ رہے 
ہو گئی جو خطا تو اب کے برس 
مجھ میں کوئی خطا رہے نہ رہے 
جل گئی باغ کی امیدیں بھی 
اب گلوں میں فضا رہے نہ رہے 
میرے زخموں کے دست دامن میں 
درد کی اب دوا رہے نہ رہے 
بجھ گئے دیپ سب وفاؤں کے 
صحن میں اب ہوا رہے نہ رہے 
فرق پڑتا ہے کیا بھلا مجھ کو 
اس کے دل میں دغا رہے نہ رہے 
المیے خوب ہم نے جھیلے ہیں 
ڈر نہیں المیہ رہے نہ رہے 
گریہ و غم کے آئینے میں ہیں 
عکس میں اب عزا رہے نہ رہے 
میرے پہلو سے آگ ہے لپٹی 
سر پہ باد صبا رہے نہ رہے 
لب کھلے ہیں تو کچھ سنو پل بھر 
کیوں کے پھر یہ گلا رہے نہ رہے 
اب نہ لوٹیں گے پھر کبھی مریمؔ 
میرے پیچھے صدا رہے نہ رہے 

غزل
۔۔۔۔۔۔
دیکھے ہیں مناظر جو ادھر شام سے پہلے 
دن ڈھلتے بدلتی ہے نظر شام سے پہلے 
اترے ہیں یہاں دشت میں جو قافلے اکثر 
کتنے ہیں چلے پار خضر شام سے پہلے 
تابندہ بہاروں کے نئے رنگ لیے تو 
میری بھی کبھی چھت پہ اتر شام سے پہلے 
اس درد و ستم کا نہیں غم مجھ کو صنم تو 
ہے آس ہو یہ ختم سفر شام سے پہلے 
افلاس سے بڑھ کر نہیں ہوتا کوئی بھی دکھ 
اس غم میں گرے ٹوٹ کہ در شام سے پہلے 
جو چھوڑ کے جاتے ہیں یہاں بیچ بھنور میں 
کھلتے ہیں نہیں ان پہ یہ در شام سے پہلے 
بھٹکے ہوؤں کی راہیں تو اکثر ہیں ہوئی غم 
کب ملتے انہیں اپنے ہی گھر شام سے پہلے 
ٹوٹی ہوئی اب شاخوں کو یہ دیکھ کہ مریمؔ 
ہاں پھوٹ کے روتے ہیں شجر شام سے پہلے 

غزل
۔۔۔۔۔۔
خواب جیسی ہی کوئی اپنی کہانی ہوتی 
یوں تو برباد نہ یہ اپنی جوانی ہوتی 
تیرے آنے سے چہک اٹھتا یہ ویرانۂ دل 
پھر سے آباد وہی روش پرانی ہوتی 
رابطہ رکھا نہ دیا جائے سکونت کا پتہ 
اس طرح بھی ہے کوئی نقل مکانی ہوتی 
اب مرے پاس نہیں کوئی بھی رونے کا جواز 
ہجر موسم کی سہی اشک فشانی ہوتی 
یاد کرنے کا تجھے کوئی بہانہ بھی نہیں 
کوئی چھلا کوئی چوڑی ہی نشانی ہوتی 
اب ترے ہجر سے مانوس طبیعت ہے مری 
پہلے والی سی نہیں جاں پہ گرانی ہوتی 
نخل جاں پہ جو برستا تیرا بادل مریمؔ 
کچھ تو کم جسم کی یہ تشنہ دہانی ہوتی

No comments:

Post a Comment