کوئی موسم ہو دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم
کہ بدلہ ہی نہیں جاناں، تمہارے بعد کا موسم
نہیں تو آزما کر دیکھ لو، کیسے بدلتا ہے
تمھارے مسکرانے سے دلِ ناشاد کا موسم
صدا تیشے سے جو نِکلی، دلِ، شیریں سے اُٹھی تھی
چمن خُسرو کا تھا لیکن، رہا فرہاد کا موسم
پرندوں کی زباں بدلی، کہیں سے ڈھونڈ لے تُو بھی
نئی طرزِ فُغاں اے دِل کہ ہے ایجاد کا موسم
رُتوں کا قاعدہ ہے وقت پر یہ آتی جاتی ہے
ہمارے شہر میں کیوں رُک گیا فریاد کا موسم!
کہیں سے اُس حسیں آواز کی خوشبو پُکارے گی
تو اُس کے ساتھ بدلے گا دلِ برباد کا موسم
قفس کے بام و دَر میں روشنی سی آئی جاتی ہے
چمن میں آگیا شاید لبِ آزاد کا موسم
مِرے شہرِ پریشاں مَیں تری بے چاند راتوں میں
بہت ہی یاد کرتا ہوں تری بنیاد کا موسم
نہ کوئی غم خزاں کا ہے، نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم
عشق میں فرصت ِ مسلک نہیں دی جاتی ہےآگ ہے آگ کو ٹھنڈک نہیں دی جاتی ہے
دھوپ میں جلتے درختوں کو دعا دے جاؤ
ان کے سر پر کوئی اجرک نہیں دی جاتی ہے
اس لیے دکھ نہیں آتا ہے بتا کر کوئی
گھر جو اپنا ہو تو دستک نہیں دی جاتی ہے
جانے والا تو ٹھہر جائے ، پلٹ بھی آۓ
اتنا بے جاں ہوں صدا تک نہیں دی جاتی ہے
میں مگر کار ِ وفا ترک نہیں کر سکتا
مجھ کو اجرت مری بے شک نہیں دی جاتی ہے
اک چٹائی بھی بہت حجرہ نشینوں کو میاں
مسند ِ مشہد و ایبک نہیں دی جاتی ہے
زخم ایسا ہو جو ناسور ِ بدن ہو جاناں
شب گزاری کو یہ بیٹھک نہیں دی جاتی ہے
ہجر کے واسطے دل خاص چٌنے جاتے ہیں
عام شعلوں کو ہوا تک نہیں دی جاتی ہے
ایک تو مرگ ِ مراسم کی خبر دل کو ، ضمیر
اور پھر ایسے ، اچانک ، نہیں دی جاتی ہے
ضمیر قیس
No comments:
Post a Comment