غزل
تجھے کتنا چاہتی ہوں تجھے کیا پتہ نہیں
تونے جو زخم دیا تھا وہ ابھی بھرا نہیں
مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ میری ھے یہی گذارش
میرے پاس آؤ بیٹھو ابھی دل بھرا نہیں ھے
کیا کروں اتنی دولت کیا کروں میں اتنی شہر ت
میرے جب سے تو ھے میرے پاس کیا نہیں ھے
میری تجھ سے التجا ھے مجھے بے وفا نہ سمجھو
کرو تم تلاش جگ میں کوئی پارسا نہیں ھے
یہ زمانہ ھے فریبی نہیں ھے کوئی کسی کا
چلو چھوڑو اس دیس کو یہاں کچھ بچا نہیں ھے 🌷🌷🌷🌷🌷🌷

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا
آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے
اور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا
وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میں
ایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
پاگل ہوئے جاتے ہو فرازؔ اس سے ملے کیا
اتنی سی خوشی سے کوئی مر بھی نہیں جاتا
No comments:
Post a Comment