HD

Sunday, 18 December 2022

تجھے کتنا چاہتی ہوں تجھے کیا پتہ نہیں  تونے جو زخم دیا تھا وہ ابھی بھرا نہیں 

غزل 

تجھے کتنا چاہتی ہوں تجھے کیا پتہ نہیں 
تونے جو زخم دیا تھا وہ ابھی بھرا نہیں 

مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ میری ھے یہی گذارش 
میرے پاس آؤ بیٹھو ابھی دل بھرا نہیں ھے 

کیا کروں اتنی دولت کیا کروں میں اتنی شہر ت

میرے  جب سے تو ھے میرے پاس کیا نہیں ھے

میری تجھ سے التجا ھے مجھے بے وفا نہ سمجھو 
کرو تم تلاش جگ میں کوئی پارسا نہیں ھے

یہ زمانہ ھے فریبی نہیں ھے کوئی کسی کا 

چلو چھوڑو اس دیس کو یہاں کچھ بچا نہیں ھے 🌷🌷🌷🌷🌷🌷


Published from Blogger Prime Android App



قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا 
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا 

آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے 
اور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا 

وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میں 
ایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا 

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر 
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا 

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے 
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا 

پاگل ہوئے جاتے ہو فرازؔ اس سے ملے کیا 
اتنی سی خوشی سے کوئی مر بھی نہیں جاتا

No comments:

Post a Comment