اصل ترقی میڈ ان پاکستان کی ترقی ھے
نیچے پچھلے دس سال کی پاکستان اور بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ کے فگرز ہیں
اکثر کہا جاتا بنگلہ دیش ہم سے اگے نکل گیا یہ نہیں بتایا جاتا کب نکلا۔
2011 میں پاکستان کی ایکسپورٹس بنگلہ دیش سے 1 ارب ڈالر زیادہ تھیں اور 2019 میں ہماری ایک ارب ڈالر 2011 کے مقابلے میں کم ہوگئی اور بنگلہ دیش کی 15 ارب ڈالر زیادہ۔
بنگلہ دیش نے ترقی 2013 سے 2018 تک کی ان پانچ سالوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اوسطاً 50 سے 70 ڈالر رہی کوئی عالمی مہنگائی نہیں تھی سازگار معاشی حالات تھے جس کا بنگلہ دیش نے بھرپور فائدہ اٹھایا دوسری طرف پاکستان نے سازگار معاشی حالات میں صرف امپورٹ میں اضافہ کیا میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار کے چار سالہ دور میں 2013 سے 2017 تک ایکسپورٹ 25 ارب ڈالر سے 21 ارب ڈالر پر اگئی تھیں یہ تھی ترقی یہ تھی اسحاق ڈار کی معیشت کی سمجھ

پھر عمران کی حکومت ائی 2019 سے 2022تک مشکل ترین معاشی حالات معاشی بندشوں کے باوجود پاکستان کی ایکسپورٹ میں 9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ
اگر عمران کو سازگار معاشی حالات ملتے عالمی منہگائی اور عالمی وبا کا سامنا نہ ہوتا تو ایکسپورٹ 40ارب ڈالر کے قریب ہوتی۔
اپ کے پاس sustainable گروتھ کا ایک ہی طریقہ ھے اپ کی معیشت کا ماڈل ایکسپورٹ بیس ہونا چاہیے اس سے یہ ہوگا آپ کی کرنسی stable رہے گی اپ کے تجارتی خسارہ کنٹرول میں رہے گا یا سرپلس ہو جائے اپ کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ کنٹرول میں رہے گا ۔
پاکستان کا مسئلہ ہی امپورٹ بیس معیشت رہا ھے جس کا زمہ دار اسحاق منشی اور نواز شریف جیسا نا اہل چور ھے۔
ایکسپورٹ بڑھنے کا مطلب ڈالر کی سپلائی بہتر ہوگی امپورٹ کو روکا نہیں جا سکتا لیکن امپورٹ اور ایکسپورٹ میں توازن پیدا کیے بغیر ترقی ناممکن ھے۔
جو کچھ ن لیگ پچھلے ادوار میں کرتی رہی وہی کچھ پچھلے چھ ماہ میں کیا۔
ان اعدادوشمار سے بھی اگر اپ کو سمجھ نہیں ارہی کہ پاکستان کی معاشی بربادی کا زمہ دار کون ھے تو پھر اپ کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ھے۔
حوالاجات پاکستان اسٹیٹ بینک
#Pakistan
#EconomicCrisis
#Exports
#Imports
#PTI
#N league
#StateBankPakistan
#TeamPakistanCyberForce
No comments:
Post a Comment