HD

Tuesday, 1 December 2020

پینتیس سال زنجیروں میں جکڑا کاون ‏

پینتیس سال زنجیروں میں جکڑا کاون 
نیم پاگل حالت میں کمبوڈیا کے جنگلوں میں جا کر
 اِس دنیا کے بے حس ترین لوگوں کا تعارف کروائے گا
 اُس کے پاس سُنانے کو کہانیاں ہوں گی، درناک کہانیاں
 پاؤں پر زنجیروں کے نشان دیکھ کر 
دوسرے ہاتھی پوچھیں گے " دوست کیا یہ پیدائشی ہیں؟" 
اِس سوال پر اُسے کیا کُچھ یاد نہ آئے گا
وہ بتائے گا کہ یہ میرے چاہنے والوں کی چاہت تھی
وہ جس سے پیار کرتے تھے اُسے باندھ لیتے تھے
 وہ بتائے گا کہ اُس نے حکمرانوں کے بچوں کو
 اپنی پیٹھ پر سوار کیا کبھی گِرایا نہیں
 انتقاماً وہ یہ کر بھی سکتا تھا لیکن 
وہ اُن میں رہتے ہوئے بھی اُن جیسا نہیں بنا
 اُس نے اپنی ساتھی کو بھی انہیں زنجیروں میں قید 
پاگل ہوتا دیواروں میں سر پٹختے مرتا دیکھا
 اُس کی زنجیریں اُس کے مرنے کے بعد کُھلی
وہ پھر بھی خوش قسمت رہا کہ 
اُس کی زنجیر بےشک دیر سے کُھلی
 جوانی چار دیواریں نگل گئیں
 اعصاب ٹوٹے  رنگت اُڑ گئی
لیکن  زنجیریں۔۔ یہ زنجیریں میرے جیتے جی کُھلی
مجھے تنہائی اور وحشت سے آذادی ملی 
اب میں دُنیا کا تنہا ترین ہاتھی تو نہیں رہا لیکن
میں ان  سبزوں میں تنہا گھوموں گا
اُن تاریک دنوں اور لوگوں کو بھلانے کی کوشش کروں گا ۔

No comments:

Post a Comment