سنگاپور کی آبادی 60 لاکھ ہے اور اس ساٹھ لاکھ کی آبادی کو 12 عدد کمپنیاں بجلی سپلائی کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے صارفین کو سہولیات دینے میں آپس میں بڑا کمپٹیشن رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور میں ایک منٹ کے لیے بھی بجلی کی فراہمی معطل نہیں ہوتی۔
ڈھاکہ جیسا شہر جہاں سال میں چھ مہینے بارش ہوتی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اتنی زیادہ بارشوں کے باوجود وہاں کاروبار زندگی تعطل کا شکار نہیں ہوتا۔
اب آپ کراچی کی مسکنت دیکھیے۔ کراچی جس کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے کو بجلی سپلائی کرنے والی صرف ایک ہی کمپنی ہے جس نے کراچی کی عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان کا سسٹم اتنا بیکار اور ناتواں ہے کہ بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی ڈھیر ہوجاتا ہے۔ اوور بلنگ اور غیر اعلانیہ طویل ترین لوڈ شیڈنگ ان کے سسٹم کا خاصہ ہے۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کو کبھی ایسے حکمران نصیب نہ ہوسکے جنہیں ملک و قوم کی فکر ہو یا وہ ملک و قوم کا درد رکھتے ہوں۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک حکمران کیٹیگری نے ہمیشہ اپنے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے ایوانوں کا رخ کیا ہے اور ہر معاملے میں اپنے مفادات کو مقدم رکھا ہے خواہ یہ مفادات قوم کی گردن دبوچ کر ہی کیوں نہ حاصل کیے جائیں۔ آپ اس چیز کا اندازہ صرف اس بات سے لگاسکتے کہ شہر کراچی جسے پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جس کے بند ہونے پر پورے ملک کے لالے پڑ جاتے ہیں ایک ایسی کمپنی کے ہاتھوں یرغمال ہے جو مافیا بن چکی ہے اور سرکار یا ادارے خاموشی کی تصویر بنے ہاتھ باندھے اپنی زبانوں پر تالے ڈال کر اس مافیا کے آگے سربسجود ہیں۔ اس کمپنی کو لگام ڈالنے والا کوئی نہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنی من مانی اور کھلی بدمعاشی پر اتر آئی ہے۔ ان کی جرات اتنی بڑھ چکی ہے کہ یہ سرکاری احکامات کا بھی دھڑلے سے انکار کرکے سرکار کی ساکھ کی دھجیاں بکھیرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
بس بالآخر اپنی بے بسی پر صرف یہی کہہ سکتا ہوں۔۔۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
No comments:
Post a Comment