HD

Sunday, 28 June 2020

‎عمران خان کیساتھ اگر کوئی ایک بندہ رہ جائے تو وہ میں ہونگا ‏

پڑھنے کیلئے وقت ہے تو پڑھ لو ، نہی تو بنا پڑھے 
لائک کمنٹ کرکے مجھ پر ہرگز احسان نا کرے 

نظر میں اس دنیا میں ایک ہی قابل بھروسہ انسان رہ گیا ہے اور وہ ہے میرا یار عمران خان 
جو انسان ہونے کے ناطے کوتاہی تو کر سکتا ہے اپنے وزیروں اور مشیروں کے ہاتھوں دھوکہ تو کھا سکتا ہے 
مگر اس قوم سے دھوکہ کبھی نہی کر سکتا جس قوم کی بھلائی کیلئے اپنا ہستا بستا گھر اجاڑ دیا شہزادوں جیسی زندگی کو ٹھوکر ماری 
پیٹرولیم مصنوعات کی اس حد تک کمی کی میں نے مخالفت کی تھی
کیونکہ ہم قرض دار ہیں عوام کو ڈائرک ریلف کبھی نہی ملا لیکن اگر قدر سستا نا ہوتا تو ہم اپنا کچھ قرض ضرور ادا کر سکتے تھے مگر عمران خان کے مشیروں نے ہمیشہ ہی عمران خان کو غلط مشورہ دیا ہے 
اور مجھے خان صاحب سے یہی ایک گلہ ہے کہ اتنے بڑے لیڈر ہونے کے باوجود کیسے حرام کے نطفوں کو پہچاننے میں غلطی کر جاتے ہیں
عمران خان کے ارد گرد سارے وہ لوگ جمع ہو چکے ہیں جو بھٹو سے لیکر ضیاءالحق تک ضیاء الحق سے لیکر بے نظیر تک بے نظیر سے لیکر نوازشریف تک نوازشریف سے لیکر مشرف تک اور مشرف سے لیکر زرداری تک کو چونا لگا چکے ہیں جبکہ ہمارا دعوہ تھا کہ ہم تبدیلی لیکر آئیں گے جو ان حرام کے نطفوں کے ہوتے ہوئے کبھی نہی لائی جا سکتی

راجہ ریاض کو دیکھا جائے تو جہالت کے پتلے کو بنانے کی ضرورت نہی 
یہ جب پارٹی میں شامل ہو رہا تھا تو مجھے یاد ہے ہم نے بھرپور مخالفت کی تھی کیونکہ تحریک انصاف جیسے پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کی پارٹی میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہی تھی مگر اس وقت فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کچھ دوست ہمیں بتا رہے تھے کہ اگر رانا ثناء اللہ جیسے غنڈے کو شکست دینا ہے تو اسے لانا ضروری ہے 
یہاں ہم پہلی بار اپنے نظریے اور اصول سے ہٹ گئے جسکے نتائج آج سنگین ہوتے دکھائی دے رہے ہیں

اسکے علاوہ پارٹی قیادت راجہ ریاض جیسے موقع پرستوں اور بے ایمانوں سے بھری پڑی ہے قابل افسوس بات ہے کہ خان صاحب نے جن نوجوانوں کو کچھ خواب دکھائے تھے آج وہ پارٹی قیادت میں پیراشوٹرز کے نیچے لگے ہوئے ہیں یا سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں جو بچے کچے انچاپین ہیں وہ دفاع کرنے کی بجائے الٹا عمران خان کو کھوس رہے ہیں جبکہ انہی لوگوں کے سٹیٹس جب میں پڑتا تھا تو لائک کمنٹ کے چکر میں لکھا کرتے تھے
 
عمران خان کیساتھ اگر کوئی ایک بندہ رہ جائے تو وہ میں ہونگا ہم پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارا کر لیں گے ہم ایک عظیم قوم بنیں گے مگر آج پروفائل پر برقعے کی ڈی پی لگائے بیٹھیں ہیں کیوں بھائی ۔ ۔ ۔ کیوں  ؟
کیا خان صاحب نے کرپشن کرکے ملک کو لوٹ لیا  ؟
کیا قاسم اور سلیمان کیلئے لندن میں جائیدادیں بنائی ؟
کیا رشتے داروں کے نام پراپرٹی خریدی  ؟
کیا جدہ میں آپکے پیسے سے سٹیل مل لگایا ؟
کیا بنی گالہ میں مودی کو بنا ویزے کے آنے دیا  ؟
کیا بنی گالہ سے کلبھوشن سنگھ یادیو پکڑا گیا  ؟
کیا ڈان لیکس میں ملوث ہے ؟
کیا پنامہ لیکس میں نام آیا ہے ؟
کیا میموگیٹ میں ملوث ہے ؟
کیا ماڈل ٹاون کے مقتولوں کا قاتل نکلا  ؟
کیا کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا حکم دیا کرتا تھا  ؟
کیا این ڈی ایس اور راء کیساتھ ملا ہوا ہے ؟
کیا ایان علی کو ڈالرز دیکر ملک سے فرار کروا رہا تھا ؟
کیا دین کے نام پر قرآن کے احکامات کا سوداگر ہے ؟
کیا جہاد کے نام پر دوسروں کو مروانے والا منافق ہے ؟
ایسا کیا کر دیا خان صاحب نے جو منہ چھپائے پھیر رہے ہو ؟

مجھے گلہ کسی بدذات سے نہی صرف ان دوستوں سے ہے جو بجائے ملک کو لوٹ کر کھانے والوں کے تلوٹے چاٹنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں اس عظیم انسان کا دفاع کیا جائے جو غلط پالیسی کا مرتکب تو ہو سکتا ہے مگر اس کی حب الوطنی ہرگز داغدار نہی
مجھے گلہ صرف اور صرف اپنے ان دوستوں سے ہیں جو باشعور ہو کر ہمت ہار چکے ہتھیار پھینک چکے ہیں 
مجھے گلہ ان دوستوں سے ہے جنہوں نے خلافت عثمانیہ کی تاریخ تو پڑھی مگر سبق حاصل نہی کر پائے 
ارے 627 سال تک چلنی والی عظیم سلطنت،  سلطنت عثمانیہ کیلئے قریب ڈیڑھ سو سال وہ جہاد کیا گیا جس میں لاکھوں لوگ شہید ہوئے ہمیں ستر سال ہو چکے ہیں جبکہ ریاست مدینہ کا تصور پیش کئے ابھی دو سال ہونے کو ہے
یہ اتنا آسان نہی اسکے لئے ہم نے اور ہماری نسلوں نے آخری سانس تک جنگ لڑنی ہے زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے
نا ہی مسلمان کیلئے آسان زندگی ہے مسلمان ہو تو ہر آزمائش کیلئے تیار رہو 
عمران خان نے آپکو اپکی ذمے داری سمجھائی ہے اپنی خودی پہچاننے کا درس دیا ہے
اسکے علاوہ وہ بھی میری طرح اور اپکی طرح ایک انسان ہی تو ہے اور وہ واحد انسان ہے جسکا پاکستان پر احسان ہے ورنہ ہم نے کیا ۔ ۔  کیا ہے اس ملک کیلئے  ؟
اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تو ہمیں کوئی حق نہی کہ عمران خان پر تنقید کریں 
کیونکہ وہ اپنی ذمے داری نبھا رہا ہے جبکہ ہم بلاوجہ تنقید کرکے اپنا ملبہ اپنی ذمے داری اسی پر ڈال رہے ہیں 

ملک انعام خان فطری انصافین ہیں اس لئے جب جب میرے یار عمران خان پر مشکل وقت آئیگا میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اسکے ساتھ کھڑا رہونگا نا کہ برقعے والی ڈی پی لگاونگا

No comments:

Post a Comment