HD

Tuesday, 7 April 2020

عمران خان نے تمام مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر رپورٹ پبلش کی

عمران خان نے تمام مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر رپورٹ پبلش کی۔ 
اس سے پہلے یا ایسی رپورٹس دب جاتی تھیں یا ان سے متعلقہ ریکارڈز کو آگ لگ جاتی تھی۔ 

مثلاً ایل ڈی اے کے ریکارڈ  روم کو آگ لگا دی گئی اور میٹرو بس کا ریکارڈ جل گیا۔

مئی دو ہزار تیرہ میں ایسی ہی ایک آگ نے تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے کے کرپشن کے ثبوت جلا دئیے اور اس سانحےمیں آٹھ افراد کی جانیں بھی گئیں۔

سی ڈی اے اسلام آباد کے دفاتر میں میاں نواز شریف کے ابتدائی سالوں میں اہم ریکارڈ نظر آتش ہوگیا اور وہ ریکارڈ ضائع ہوگیا جس میں ان کے زمینوں کے گھپلے تھے۔ وہ بھی مسلسل تین سال تک۔ 

پھر مارچ دو ہزار چودہ میں دو بار ایک "شارٹ سرکٹ" نے  نیسپاک لاہور میں وہ سارا ریکارڈ جلا دیا جو بہت سے شریفوں کا پول کھول لیتا۔ 

اس سال لاہور میں الیکشن کا اہم ریکارڈ بھی جل گیا جس میں دھاندلیوں کے پکے ثبوت تھے۔ ان حلقوں کے بھی جن کو عمران خان کھولنے کا کہہ رہا تھا۔ 

پھر اپریل دو ہزار سولہ میں ایف بی آر کا وہ ریکارڈ جل گیا جو جے آئی ٹی آفشور کمپنیوں کی بابت طلب کر رہی تھی۔ 

اسی سال اگست میں بیت المال پنجاب کا وہ ریکارڈ جل گیا جس میں میاں صاحبان کی اربوں روپے کی غبن کے چرچے تھے اور لوگ کہہ رہے تھے کہ بیت المال بھی کھا گئے۔ 

اگست کے بعد اسی سال ستمبر میں رمضان شوگر ملز میں آگ لگی اور ریکارڈ کا وہ حصہ جل گیا جس میں ملازمین کے بارے تفصیلات اور کچھ گھپلوں کے ثبوت تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے چند دن پہلے ڈاکٹر طاہرالقادری اس کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کر چکے تھے بشمول انڈین جاسوسوں کو کو رکھنے کے۔ 

پھر اسی مہینے گوجرانوالہ میں نندی پور پراجیکٹ کا سارا ریکارڈ بھی جل گیا جس میں مینیجنگ ڈائکٹر کی تعئنانی سے گھٹیا فرنس آئل کی فراہمی تک اربوں روپے کے گھپلے تھے۔ 

دو ہزار سولہ کے آخری مہینے یعنی دسمبر میں ملتان کچہری میں آگ نے سو سالہ زمینوں کا ریکارڈ اور ساتھ ساتھ ملتان میٹرو کا ریکارڈ بھی جلا دیا۔ ساتھ دو آدمی بھی زندہ جلوا دئیے۔ 
 
آج نواز شریف یا زرداری کی حکومت ہوتی تو یہ رپورٹ اور جہاں سے یہ اخذ کی گئی ہے وہ سارا ریکارڈ ایسی ہی کسی آگ کی نظر ہوچکا ہوتا۔ 

نوٹ ۔۔ یہ کسی بھائی کی تحریر ہے جس کو اپنے الفاظ میں مختصر کر دیا ہے۔

No comments:

Post a Comment