سیدہ فاطمہ ؓ کیا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں؟
=============
عموماً اہلسنت کے ہاں اور خصوصاً اہل تشیع کے ہاں یہ امر مانا جاتا رہا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی وفات تک وراثت کے معاملے کو لیکر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ناراض رہیں اور اسی سبب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انکی وفات کی خبر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نہ دی اور سیدہ فاطمہؓ کو رات کے اندھیرے میں نماز جنازہ ادا کرکے سپرد خاک کردیا۔ اہلسنت کے ہاں اس نظریہ کی بنیاد بخاری، مسلم اور بیہقی کی اس روایت پر ہے جو کہ سیدہ عائشہؓ سے مرو ی ہے اور جس میں تصریح ہے کہ ’’سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابو بکرؓ کو (نبی ﷺ کے ترکہ کے تنازعہ کے بعد) چھوڑ دیا اور وفات تک اس سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی، پھر سیدنا علیؓ نے انہیں راتوں رات دفن کردیا اور ابو بکر ؓ کو اطلاع تک نہ دی‘‘۔ اس عبارت سے جو تاثر ابھرتا ہے وہ ہماری نظروں میں سیدہ فاطمہؓ کے مجموعی طرز عمل سےلگا نہیں کھاتا۔ سیدہ فاطمہؓ نے ساری زندگی مشقت و صبر میں گزاری۔ جو خاتون سراپا صبر و قناعت کا پیکر ہو نبی ﷺ کے انتقال کے بعد نعوذ باللہ مال کی محبت ان میں اس قدر آگئی کہ سیدنا ابو بکرؓ کے حدیث بنویﷺ سنادینے کے بعد بھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے‘‘ فاطمہؓ ابو بکرؓ سے ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک ان سے کلام نہ کیا (حالانکہ اسلام میں تین دن سے زیادہ کلام نہ کرنا سخت ممنوع اور اعمال کا اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے رک جانے کا موجب ہے) اور اس ناراضگی کا یہ عالم رہا ہے کہ علیؓ نے فاطمہؓ کو وفات پاجانے پر رات میں ہی دفن کردیا اور ابو بکرؓ کو اطلاع تک دینا مناسب نہ سمجھا۔
جہاں اس روایت میں درایتاً جھول ہے وہاں روایتاً بھی اس سے صحیح مطلب اخذ نہیں کیا جاتا، جس کی تصریح ہم آگے کرینگے۔ پہلی بات تو یہ کہ اس روایت کو درست ماننے کا مطلب ہے کہ سیدنا علی ؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی ذات پر قطع رحمی اور بد اخلاقی کا الزام لگایا جائے۔جبکہ ان دونوں نفوس کی ذات اس طرح کے الزامات سے بری ہے۔حدیث رسولﷺ سن کر تو آج ہم آپ جیسا گناہگار و فاسق انسان اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، چہ جائیکہ بنت رسولﷺ جو کہ مجسم خیر و بھلائی اور نیکی کا پیکر تھیں لیکن پھر بھی حدیث رسولﷺ سن کر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے ابو بکرؓ سے ناراض ہوجاتی ہیں اور ان کے شوہر علیؓ جو کہ اپنے علم و اصابت رائے میں ممتاز مانے جاتے ہیں وہ بھی بجائے اس کے کہ اپنی زوجہ کو سمجھاتے، اس معاملہ میں ان کے ہمنوا ہو جاتے ہیں اور مرے پر سو درے کے مصداق ان کے انتقال کے بعد انکی صلوٰۃ المیت کی خبر تک ابو بکر ؓ کو دینا گوارا نہیں کرتے۔ اس روایت کو ماننا گویا علی ؓ اور فاطمہؓ کی ذات پر تبرا کرنا ہوا۔ لیکن مشکل یہ پڑی کہ یہ روایت بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے اور اس میں کوئی دو رائے کبھی نہیں رہیں کہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت صحیح کے بہت اعلیٰ درجہ پر ہوتی ہے اور ان کو رد کرنا انکار حدیث کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے جس سے احتراز کرنا ہی بہتر ہے۔
لیکن بھلا ہو بخاری و مسلم جیسے محدثین کا کہ انہوں نے اپنی کتب میں درج روایات کے اسناد و متن کی صحت کا از حد خیال کیا اور پوری دیانتداری سے جو ان تک پہنچا اسکو نقل کردیا۔ اللہ سے اس کےلئے محدثین کے حق میں جس قدر دعا کی جائے کم ہے۔ جب بخاری میں موجود اس متفق علیہ روایت کا بغور مطالعہ کیا اور اس کے عربی متن پر نظر ڈالی تو نظر آیا کہ اس روایت میں موجود تمام قابل اعتراض مواد سیدہ عائشہ ؓ کا قول ہے ہی نہیں بلکہ وہ تو امام زہری کاقول ہے۔ سیدہ عائشہؓ کا کلام تو وہاں ختم ہوجاتا ہے جہاں ابو بکرؓ نبی ﷺ کے ترکہ سے متعلق حدیث رسولﷺ سیدہ فاطمہ ؓ کو سنادیتے ہیں۔ اس کے بعد کا کلام زہری کا ہے جیسا کہ بخاری میں صراحت ہے:
قال فھجرقد فاطمۃ فلم تکلم فی ذلک حتی ماقت فدفنھا علی لیلا ولم یوذن بھا ابا بکر
راوی کہتا ہے کہ فاطمہؓ نے ابو بکرؓ کو چھوڑ دیا اور پھر تاوفات اس سلسلہ میں کوئی کلا م نہیں کیا حتیٰ کہ انکی موت واقع ہوگئی۔ علیؓ نے انہیں راتوں رات دفن کیا اور ابو بکرؓ کو بھی اسکی اطلاع نہیں کی۔
اس عبارت کا پہلا لفظ قال اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ الفاظ عائشہؓ کے نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ عائشہؓ کے الفاظ ہوتے تو قال کی جگہ قالت ہوتا۔ یہ الفاظ تو زہری کا کلام ہیں جو کہ مدرج ہیں۔ اسی بات کی طرف امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اشارہ کرتے ہوئے قاضی عیاض کا قول نقل کیا ہے کہ اس روایت میں جو اکثر امور ہیں وہ زہری کا کلا م ہیں۔ سو زہری کا کلام فاطمہؓ کے اس طرز عمل کے اثبات کے لئے قطعی حجت نہیں بن سکتا خاص کر کہ جب زہری نہ ہی تو کسی عینی شاہد کی سند نقل کریں اور نہ امر واقعہ پر انکا موجود ہونا ثابت ہو۔ سو اس بحث سے یہ بات تو اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ فاطمہؓ کا ابو بکرؓ سے ناراض ہونا اور علیؓ کا ابو بکرؓ کو اطلاع کیئے بغیر فاطمہؓ کو راتوں رات دفن کرنا کسی طور پر محدثانہ اصولوں سے ثابت نہیں۔
پھر دوسری جگہ تمام شیعہ و سنی کتب میں یہ بات مذکور ہے کہ فاطمہؓ کے کفن دفن اور غسل کے انتظام میں ابو بکرؓ کی زوجہ اسماء بنت عمیسؓ شامل رہی ہیں اور ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ جلد ۴ صفحہ ۳۴۲ پر، مصنف عبدالرزاق جلد ۳ صفحہ ۳۱۰، اسد الغابہ جلد ۵ صفحہ ۴۵۸، مولانا محمد نافع نے رحما بینہم جلد ۱ صفحہ ۴۱ اور بنات اربعہ صفحہ ۲۹۷ پر تصریح کی ہے کہ فاطمہؓ کو تین لوگوں نے غسل دیا یعنی علیؓ، اسما بنت عمیسؓ سلمیٰ زوجہ ابو رافع ؓ۔ سو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے اپنے شوہر ابو بکرؓ کو فاطمہؓ کے انتقال کی اطلاع نہ دی ہو ۔ اور پھر فاطمہؓ ابو بکرؓ سے تو ناراض رہیں لیکن انکی زوجہ اسماء بنت عمیسؓ سے نہ صرف اپنی تیماداری کرواتی رہیں بلکہ اپنے کفن دفن کے انتطام کی وصیت بھی انکو کرگئیں جیسا کہ کتب تواریح میں مذکور ہے۔ سو یہ تو درایتاً بھی نہایت ہی مہمل بات ہے کہ ابو بکر ؓ کو فاطمہؓ کے انتقال کی خبر نہ ہوئی۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلمانوں میں ممتاز شخصیات کی صلوٰۃ المیت ہمیشہ خلیفہ وقت یا پھر ان کی غیر موجودگی میں انکی طرف سے مامور عمال نے ادا فرمائی جیسا کہ ابو ایوب انصاریؓ کی صلوٰۃ المیت یزید ابن معاویہؒ نے ادا کی جو کہ اس غزوہ قسطنطنیہ کے امیر تھے جس میں کہ ابو ایوب انصاریؓ کا انتقال ہوا۔ اسی طرح سے جب نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کا انتقال ہوتا ہے تو انکی صلوٰۃ المیت خلیفہ وقت عمرؓ ادا کرتے ہیں، اسی طرح سے انکے بھائی ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلبؓ کا ۲۰ ہجری میں انتقال ہوتا ہے تو انکی صلوٰۃ المیت بھی عمرؓ ادا کرتے ہیں۔ عباس بن عبدالمطبؓ کا انتقال عہد عثمانؓ میں ہوتا ہے تو انکی صلوٰۃ المیت عثمانؓ ادا کرتے ہیں۔ حسن و حسین ؓ کے چچازاد بھائی و بہنوئی اور امیر یزید کے سسر عبداللہ بن جعفرؓ کا بعہد عبدالملک بن مروان انتقال ہوتا ہے تو انکی صلوٰۃالمیت انکی طرف سے مقرر امیر مدینہ ابان بن عثمان بن عفانؒ پڑھاتے ہیں۔ سو یہ کیسے ممکن ہے کہ بنت رسولﷺ فاطمہ ؓ کا انتقال ہو اور خلیفہ وقت ابو بکر ؓ انکی صلوٰۃ المیت ادا نہ کریں۔ اسی لئے طبقات ابن سعد میں ابن سعد نے اپنی مکمل سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ
’’حماد نے ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ ابو بکرؓ نے فاطمہؓ بنت رسول اللہؓ کی صلوٰۃ المیت ادا کروائی اور چار تکبیریں کہیں۔ (طبقات جلد۸ ص۱۶)
اگرچہ یہ روایت مرسل ہے لیکن ابراہیم نخعی کی مرسلات محدثین کے نزدیک نہ صرف قابل قبول ہیں بلکہ اونچا درجہ رکھتی ہیں جیسا کہ امام بخاری کا قول ہے کہ
احب المرسلات الی مرسلات ابراہیم النخعی
مجھے مرسلات میں سب سے زیادہ محبوب ابراہیم نخعی کی مرسلات ہیں۔
اس روایت کو ابن سعد نے امام شعبی سے بھی نقل کیا ہے کہ ابوبکرؓ نے فاطمہؓ کی صلوٰۃ المیت ادا فرمائی۔
شعبی کی سند سے ہی امام بیہقی نے اس روایت کو ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے :
ان فاطمہ ؓ الا ماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق ؓ فقدمہ یعنی فی الصلوٰۃ علیھا
فاطمہؓ کا جب انتقال ہوا تو انہیں رات میں دفن کی اور ابو بکرؓ کے دونوں بازو پکڑ کر انکو صلوٰۃ میں آگے کیا۔اسی بات کو شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثنا عشریہ طعن ۱۴ کے آخر میں ’’فصل الخطاب‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ میں اپنی مکمل سند سے یہی بات ابن عباسؓ سے نقل کی ہے۔ کنزالعمال کے مصنف علی المتقی الہندی نے خطیب کے حوالہ سے جناب باقر سے نقل کیا ہے:
’’ابو بکرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے (فاطمہؓ) صلوٰۃ المیت پڑھائی۔‘‘ (جلد ۶ صفحہ ۳۱۸)
تحریر: محمد فھد حارث
No comments:
Post a Comment