HD

Monday, 9 December 2019

ایک روپیہ والی مائی

جیسے کوئ  ایک روپیہ بھی نہ دیتا تھا،تو کوئ دے بھی دیتا تھا جب
مر گئی تو شہر بھر کو چھٹی دے دی

ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ ایک پڑھے لکھے کھاتے پیتے گھرانے سے تھیں۔ لندن سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان میں آ کے ڈاکٹر کی خدمت کے فرائض انجام دئیے۔ محبت میں پڑ گئیں تو ڈاکٹر صاحب سے شادی کر لی۔
زیادہ میں بھی نہیں جانتا بسس جو شہر کے لوگوں سے سنا وہ بیان کر رہا ہوں.
ڈاکٹر صاحب نے وقت گزرنے کے بعد ایک اور شادی کر لی۔ اور مرحومہ ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کی ساری جائیداد اپنے نام کر لی۔ رفعت بی بی کو کسی چیز کی کمی۔نہ تھی۔ سوائے محبت کے۔
مگر ڈاکٹر صاحب سے انہیں وہ محبت بھی نہ ملی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی دوسری بیوی کو لے کے یورپ میں شفٹ ھو گئے۔ رفعت سلطانہ کی حالت غیر ہو رہی تھی۔کھچھ زہنئ توازن بھی زیادہ ٹھیک نہ رئا۔  پھر ایک دن فون پہ رابطہ ہوا یا خط موصول ہوا۔ خدا بہتر جانتا۔ مگر ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کو طلاق مل گئی۔ یے سن کر وہ جیتے جی مر گئ۔ ۔ ٹیکسلا کے شہر واہ کینٹ میں رفعت سلطانہ کو  زندگی کے تقریباََ بیس سال  اپنی آنکھوں کے سامنے  بھیک مانگتے دیکھا۔ مرحومہ کی ایک ہی صدا ہوتی تھی۔
ایک روپیہ دے دیں۔۔  ساتھ ہی دوسری صدا لگتی
plz give me one repees only

اگر کوئی پانچ روپے دیتا تو مرحومہ پرس میں سے چار روپے نکال کے واپس کر دیتیں۔ اور بولتیں۔
بسس ایک روپیہ ہی چاھئیے ۔ 

جب میں سہودی عریبہ میں تھا  تو خبر ملی کہ ایک روپے والی آنٹی انتقال کر گئی۔۔  بہت دکھ ہوا۔ شہر کے سکولز کو چھٹی دے دی گئی۔۔۔ ہر انکھ اشک بار تھی۔۔ سب اسے جانتے رھے
دکانیں بند کر دی گئیں۔  سنا تھا بہت بڑا جنازہ ہوا

پروٹوکول ایسا تھا کہ مرحومہ پی او ایف ہوٹل میں بھی چائے پینے چلی جاتی تھی۔۔ اج انھیں فوت ہوئے 3 سال ہو گئے ہیں۔۔ اللہ ان کی مغفرت کرے آمین

No comments:

Post a Comment