ایک گاوں کے پاس ایک جنگل تھا جس میں بندر بہت تھے ۔ایک کمپنی نےوہاں آ کرا پنا کیمپ لگایا اور سروے کیا کہ کتنے بندر ہیں جنگل میں۔ اس کے بعد گاؤں میں اعلان کر دیا کہ کمپنی 300روپے کا ایک بند خریدے گی۔ گاوں والو نے سوچا مفت کا بندر ہے اور 300 ملیں گے۔
گاوں والوں نے بندر پکڑنا شروع کر دیے۔ کمپنی نے 40%بندر خریدے اور اعلان کیا کہ اب بندر 400میں خریدے گی۔ لوگوں نے اور محنت سے بندر پکڑنے شروع کر دییے ۔کمپنی نے مزید 40% بندر خریدے۔ اب جنگل مین بندر بہت کم رہ گئے اور پکڑنا مشکل ہو گیا۔ کمپنی نے اعلان کروایا کہ اب بندر 1000 روپے کے حساب سے لے گی اور اپنا ایک ایجنٹ چھوڑ دیا جو لوگوں کو 300-400 میں خریدا یوا بندر 700 مین دینے لگا۔ لوگوں نے سوچا بندر پکڑنا اب مشکل ہے اس سے 700 میں لے کے کمپنی کو 1000 میں بیچ دیتے ہیں ۔
کچھ دن کے بعد بندر بھی گاوں والوں کے پاس تھے اور کمپنی اپنا کیمپ اٹھا کے غائب ہو چکی تھی۔ گاوں بھی وہیں ، بندر بھی وہیں اور کمپنی مال و مال
یہ ہے سٹاک ایکسچینج۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment